ڈھاڈر، کچھی میں قدیم تعلیمی ادارے کی عمارت خستہ حال، منہدم ہونے کا خدشہ
ڈھاڈر (انتخاب نیوز) کچھی ضلع کی تاریخی اور قدیم تعلیمی ادارہ مہندم ہونے کا خدشہ ،پرنسپل آفیس سمیت سٹاف روم کلاس روم سائنس روم اور دیگر اہم شعبہ جات کی چھتیں اور دیواریں بوسیدہ ہوچکی ہیں طلبا اور اساتذہ کے لئے سازگار تعلیمی ماحول ناپید اعلی حکام فوری نوٹس لیں،تفصیلات کے مطابق کچھی ضلع میں حالیہ شدید بارشوں نے ضلع کی سب سے قدیم اور تاریخی تعلیمی درسگاہ گورنمنٹ ماڈل اسکول ڈھاڈر کو بہت بری طرح متاثر کیا ہے اس ادارے نے قیام پاکستان سے قبل پورے علاقے میں علم کی روشنی پھیلائی اور آزادی کے بعد سے بھی یہ ادارہ تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھتے ہوئے بے شمار ہونہار طالب علم دانشور پیدا کرتا آرہا ہے جو مختلف شعبہ زندگی میں قوم و ملک کی خدمت کر رہے ہیں مگر بد قسمتی سے قابل اور محنتی اساتذہ کرام سے مزئین یہ علمی مرکز گزشتہ کئی دہائیوں سے عدم توجہی ضروری مرمت نئی کنسٹرکشن ورک سے یکسر نظر انداز ہونے کی وجہ سے ایک بوسیدہ عمارت میں تبدیل ہوچکی ہے جو کسی بھی بڑے حادثے کا شکار ہو کر المیہ بنے گا حالیہ بارشوں کی وجہ سے بوسیدہ چھتیں اور کمزور دیواریں اور غیر محفوظ تعلیمی ادارے کا منظر پیش کر رہی ہے جسکی بنا پر گزشتہ روز پرنسپل آفیس کی چھت اچانک گرگئی اور پرنسپل واسٹاف معجزانہ طور پر محفوظ رہے اسکول کی کثیر عمارتی حصہ 40سال سے بھی پرانی تعمیر ہونے سے شدید بارشوں کی وجہ سے غیر محفوظ ہو کے ٹپکنے لگی ہیں اسٹاف روم کلاس روم سائنس روم لیبارٹری اور دیگر اہم شعبہ جات سازگار تعلیمی ماحول کے لئے کسی بھی طرح موزوں نہیں ٹہرے ہیں اسکے علاوہ اسکول کا گرانڈ کی چار دیواری ایک عرصے سے تعمیر نہ ہونے سے شعبہ کھیل بھی شدید متاثر ہے ڈھاڈر کے سماجی وسیاسی اور علمی حلقوں نے نصف صدی سے بھی ذاہد اس علمی مرکز کی زبوں حالی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے محکمہ تعلیم کے اعلی حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے کہ تاکہ نسلوں کی تعلیم و تربیت کے امین اس ورثہ کی نئی تعمیر ضروری مرمت کرکے اس قابل بنایا جاسکے کہ جہاں طلبا اور معلمین باآسانی درس وتدریس کو سرانجام دیں سکیں۔


