اوپیکس کا تیل کی پیداوار میں کمی کا فیصلہ، امریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات کشیدہ
لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکہ کی سخت مخالفت کے باوجود اوپیک پلس تنظیم کے اس ہفتے تیل کی پیداوار میں کمی کے فیصلے نے صدر جو بائیڈن کے وائٹ ہاو¿س اور سعودی عرب کے شاہی خاندان کے درمیان پہلے سے ہی کشیدہ تعلقات کو مزید کشیدہ کر دیا ہے۔ برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز نے واشنگٹن اور خلیج میں تقریباً ایک درجن سرکاری عہدیداروں اور ماہرین کے انٹرویوز کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اس وقت امریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات انتہائی سرد مہری کا شکار ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ وائٹ ہاو¿س نے اوپیک کی پیداوار میں کٹوتی کو روکنے کے لیے سخت محنت کی۔ بائیڈن کو امید ہے کہ انھیں کانگریس کے وسط مدتی انتخابات سے قبل امریکہ میں پٹرول کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ نہیں کرنا پڑے گا۔ حزب اقتدار ڈیموکریٹک پارٹی امریکی کانگریس پر کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے پوری کوشش کر رہی ہے۔ واشنگٹن یوکرین کی جنگ کے دوران روس کی توانائی کی آمدنی کو بھی محدود کرنا چاہتا ہے۔ امریکی انتظامیہ نے کئی ہفتوں تک اوپیک پلس میں شامل ملکوں کو قائل کرنے کے لیے سفارتی کوششیں کیں۔ حالیہ دنوں میں توانائی، خارجہ پالیسی اور اقتصادی ٹیموں سے تعلق رکھنے والے سینئر امریکی حکام نے اپنے غیر ملکی ہم منصبوں پر زور دیا ہے کہ وہ پیداوار میں کٹوتی کے خلاف ووٹ دیں۔


