قدوس بزنجو کی جانب سے حکومت میں شمولیت کی درخواست مسترد کرتے ہیں، مولانا واسع

کوئٹہ (انتخاب نیوز) وفاقی وزیر ہاﺅسنگ و تعمیرات اور جمعیت علمائے اسلام بلوچستان کے امیر مولانا عبد الواسع نے بلوچستان حکومت میں شمولیت کا حکومتی آفر شکریہ کے ساتھ مستردکرتے ہوئے کہا ہے کہ میر عبدالقدوس بزنجو کی آفر ہمارے شایان شان نہیں اس لیے اپنے چارٹر آف ڈیمانڈ سے ایک انچ پیچھے نہیں ہٹیں گے منظور ہے تو ٹھیک ورنہ 10 سال سے اپوزیشن ہی کرتے آئے ہیں چند ماہ اور کرلیں گے، مرکز سیلاب متاثرین کی بحالی کیلئے پرعزم ہے لیکن صوبائی حکومت کے پاس کوئی بحالی کا کوئی منصوبہ ہی نہیں ہے، تمام سیاسی جماعتیں قابل احترام ہیں لیکن سیاسی سفر میں جمعیت با اختیار ہیں،صوبائی جماعت نے ضرورت محسوس کی کہ سیلاب متاثرین کی بحالی حکومت میں شامل ہوئے بغیر ممکن نہیں اس لئے پارلیمانی گروپ اور صوبائی مجلس شوری نے اپنے مطالبات کے ساتھ شمولیت کی منظوری دی لیکن حکومت کی طرف سے الگ آفر ہوئی جس کو جمعیت علمائے اسلام نے مسترد کر دیا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعیت علمائے اسلام کے صوبائی دفتر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر جنرل سیکرٹری آغا محمود شاہ، مولوی کمال الدین، ملک سکندر خان ایڈووکیٹ، حاجی محمد نواز کاکڑ، سید عزیز اللہ آغا، میر یونس عزیز زہری ،حاجی عبد الواحد صدیقی، مکھی شام لعل و دیگر بھی موجود تھے۔ مولانا عبد الواسع نے کہا کہ بلوچستان مسائل سے دو چار ہیں ان مسائل کو اجاگر کرنے کیلئے ہر جماعت کو مہینے میں دو پریس کانفرنس کرنے چاہیے۔ بلوچستان میں ایسا سیلاب آیا کہ آج بھی بلوچستان کے مختلف اضلاع بالخصوص نصیر آباد ڈویژن آج بھی پانی میں ڈوبا ہوا ہے لوگ سڑکوں پر زندگی گزار رہے ہیں لوگ بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں ان تمام تر حالات میں جمعیت علمائے اسلام نے ہر سطح پر اپنا کردار ادا کیا ہے۔ بلوچستان میں ہنگامی صورتحال ہے تمام مصروفیات ترک کرکے تمام تر توجہ سیلاب زدگان کی بحالی پر دینی چاہیے۔ تین ماہ گزر جانے کے بعد بھی صوبائی حکومت کے پاس کوئی پلان نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام کی تاریخ رہی ہے۔ پہلے بھی حکومت میں شمولیت کی دعوت دی گئی لیکن ہم نے محسوس کیا تھا کہ اتنی ضرورت نہیں ہے،سیلاب کے بعد جمعیت علمائے اسلام نے محسوس کیا اب جمعیت ہی متاثرین کی بحالی کیلئے حکومت کا حصہ بن جائیں جس کیلئے جماعت کا پارلیمانی اجلاس ہوا کہ جمعیت حکومت کا حصہ بن جائیں جمعیت حکومت میں رہتے ہوئے سیلاب متاثرین کی بحالی کیلئے اقدامات اٹھائے سیلاب زدگان بے یار و مددگار کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اس بنیاد پر جمعیت علمائے اسلام نے وزیراعلیٰ بلوچستان کی حکومت میں شمولیت کی دعوت قبول کرلی۔ انہوں نے کہا کہ مشکل کی اس گھڑی میں عوام کو ہماری ضرورت ہے حکومت کے بغیر ہم کچھ نہیں کر سکتے۔ اس حوالے سے پہلی نشست میں وزیر اعلی بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو کو ہم نے چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کی جس پر قدوس بزنجو تھوڑی سی مشاورت کیلئے وقت طلب کی۔ انہوں نے کہا کہ 1988 سے جمعیت علمائے اسلام حکومت میں آرہا ہے۔ چارٹر آف ڈیمانڈ کے برعکس ایسی آفر کی گئی کسی اور حیثیت سے حکومت میں شامل ہونا قبول نہیں ہے۔ تمام سیاسی جماعتیں قابل احترام ہیں لیکن سیاسی سفر میں جمعیت با اختیار ہیں جمعیت علمائے اسلام کے فیصلے پر بلوچستان کے عوام کی نظریں تھیں گزشتہ روز جمعیت علمائے اسلام کے پارلیمانی گروپ و مجلس شوری کا اجلاس ہوا جو مطالبات رکھے گئے اور جو آفر کی گئی وہ ہمارے شایانا شان نہیں ہے اس لیے شکریہ کے ساتھ آفر مسترد کرتے ہیں ایک دو یا تین وزارتوں کیلئے نہیں ہم اپنے اصول کے پابند ہیں 10 سال اپوزیشن میں گزاریں ریکوڈک اور این ایف سی کی وجہ سے ہمیں سزا دی گئی جمعیت علمائے اسلام کو راستہ نہیں دیا جا رہا اس لیے اب جمعیت علمائے اسلام صحیح معنوں میں اپوزیشن کا کردار ادا کرے گی جمعیت نے بڑے بڑے لوگوں کا مقابلہ کیا ہے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ رواں ماہ کے آخر میں تشکیل کردہ کمیٹی تمام اضلاع میں سیلاب متاثرین کی حال پرسی کریگی اور ان کے مسائل کو اجاگر کریگی جبکہ آئندہ ماہ نومبر میں بلوچستان میں بہت بڑا شمولیتی کانفرنس منعقد ہوگی اس کے علاہ بھی بڑی شخصیات جمعیت علمائے اسلام میں شمولیت کیلئے رابطے میں ہیں جمعیت علمائے اسلام آئندہ بہت بڑی قوت بن کر سامنے آئے گی 2023 کے انتخابات میں جمعیت سب سے بڑی جماعت ہوگی ایک بہتر و مستحکم حکومت بنائیں گے۔ جو جماعتیں اس سفر میں جانے کیلئے تیار ہوں گے ہم تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن عدم اعتماد کے بغیر بھی ہو سکتی ہے لازمی نہیں ہے کہ عدم اعتماد ہوں انہوں نے کہا کہ خیال تھا کہ حکومت میں شامل ہوکر ایک پلان بنا کر آگے چلا جائے اب حکومت میں شامل ہونے کا فیصلہ مسترد ہوا تو ہم بحیثیت اپوزیشن اپنا کردار ادا کریں گے ہم نے افر کو شکریہ کے ساتھ واپس کیا۔ ہماری رائے کے ساتھ چلنے والوں کو ساتھ لیکر چلیں گے۔ وفاق نے سیلاب میں گھر مکمل تباہ ہوں اس کیلئے 5 لاکھ تباہ گھر اور جزوی نقصان والے کیلئے ڈھائی لاکھ روپے رکھے ہیں مزید سروے جاری ہے وفاقی حکومت سیلاب متاثرین کی بحالی کیلئے پرعزم ہے کوشش ہے کہ سیلاب متاثرین میں سے جو سروے سے رہ گئی ہے انہیں دوبارہ سروے کا حصہ بنائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں