بلوچستان حکومت مطالبات ماننے کے بجائے طاقت استعمال کررہی ہے، فزیو تھراپسٹ

کوئٹہ (انتخاب نیوز) فزیو تھراپیسٹ کا مطالبات کے حق میں گورنر ہاﺅس کے سامنے دھرنا، جہاں مرد خواتین فزیو تھراپیسٹ کی بڑی تعداد شریک ہوئے، بلوچستان فزیو تھراپی ایسوسی ایشن کی جانب سے بلوچستان کے فزیو تھراپسٹ کا اپنے مطالبات کے حق میں جی پی او چوک پر احتجاجی دھرنا۔ فزیو تھراپسٹ پچھلے 127 روز سے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاج پر ہیں، فزیو تھراپیسٹ کا الزام ہے کہ حکومت مطالبات کے حل کے بجائے پر امن احتجاج سے روکنے کیلئے پولیس کی بھاری نفری تعینات کررہی ہے۔ مظاہرین کا کہنا تھا بلوچستان اور دیگر صوبوں کے ہسپتالوں میں علاج اور معالجے میں زمین اور آسمان کا فرق ہے، بلوچستان کے طول عرض سے بیشتر مریض چھوٹے امراض کے علاج کے سلسلے میں دیگر صوبوں کا رخ کرتے ہیں جس میں کوئی شک نہیں کہ انہیں یہاں سے بہتر صحت کے سہولیات میسر ہوتے ہیں ان سہولیات میں خصوصا شعبہ صحت سے تعلق رکھنے والے پروفیشنل عملہ جن میں فزیوتھراپسٹ جو صحت عامہ کیلئے ایک انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے مگر بلوچستان میں اس شعبے کو حکومت کی جانب سے یکسر نظر انداز کیا جارہا ہے-انکا کہنا تھا کہ فزیکل تھراپی جیسے اہم شعبے کو ہمارے صوبے میں ابھی تک سنجیدگی سے نہیں لیا جارہا ہے، حالانکہ دیگر صوبوں میں ہیلتھ پروفیشنلز ڈاکٹر آف فزیکل تھراپی اپنے خدمات سے مختلف مہلک امراض کے خاتمے کو یقینی بنانے اور ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل کیلئے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ بلوچستان فزیو تھراپی ایسوسی ایشن رہنماﺅں نے کہا کہ بطور ہیلتھ پروفیشنلز ہماری خواہش ہے کہ ہم اپنے صوبے میں جدید سہولیات سے آراستہ ہو کر اپنے عوام کی خدمت کرسکیں جو انتہائی غربت اور تنگدستی کے باوجود دیگر صوبوں میں علاج کی غرض سے جاتے ہیں مگر چونکہ صوبائی حکومت اور اس کی غیر سنجیدہ پالیسیاں یہ واضح کرتی ہیں کہ صوبے میں صحت کے حوالے انکے پاس کوئی ٹھوس پالیسی نہیں۔ ہم ڈاکٹر آف فزیکل تھراپسٹ نے بہت کوشش کی کہ ہم بغیر روڈوں پر دھرنا دئیے اور بھوک ہڑتال کا انتخاب کیے بغیر اپنے صوبے میں اپنے کمیونٹی کیلئے باعزت روزگار کا بندوبست حکومت کو رازی کر کے کرواسکیں مگر افسوس یہاں حکام بالا خود چاہتے ہیں کے تعلیم یافتہ نوجوان سڑکوں پر آکر بھوک ہڑتال کریں۔ انہوں نے اپنے مطالبات میں باقی صوبوں کے طرز پر ہیلتھ پروفیشنلز فزیو تھراپسٹ ڈاکٹرز کیلئے تمام ٹرشری کیئر، ٹیچنگ اور ڈی ایچ کیو ہسپتالوں میں اسامیاں پیدا کی جائیں۔ جبکہ فزیو تھراپسٹ ہاﺅس آفیسرز جو کوئٹہ میں مختلف ہسپتالوں میں کلینکل پریکٹس کررہے ہیں انہیں پیڈ ہاﺅس جاب( stipend)مہیا کی جائیں۔ مطالبات میں کہا گیا ہے کہ پانچ سالہ ڈی پی ٹی ڈگری ہولڈرز کیلئے ابتدائی سلیکشن پالیسی ایک سالہ کلینکل ہاﺅس جاب کی بنیاد پر ہو اور سوشل ویلفئر ڈپارٹمنٹ بلوچستان کے تمام کمپلکسز میں فزیو تھراپسٹ کیلئے اسامیاں دی جائیں۔ اسی طرح تمام ڈی ایچ کیو اور ٹیچنگ ہسپتالوں میں فزیکل تھراپی اور ریہبلیٹیشن سینٹرز قائم کیے جائیں۔ جب تک بنیادی مطالبات پورے نہیں ہوتے احتجاج جاری رکھیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں