وفاق اور پنجاب میں بلوچ طلباء کی پروفائلنگ اور ان کی سیٹوں پر ڈاکہ زنی جاری ہے، بی ایس او

کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی مرکزی کابینہ کا اجلاس زیر صدارت چیئرمین جہانگیر منظور بلوچ شال میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی کارروائی مرکزی سیکرٹری جنرل عظیم بلوچ نے چلائی۔ کابینہ اجلاس کا باقائدہ آغاز شہدائے بلوچستان اور ایرانی فورسز کی جانب سے مارے جانے والوں کی یاد میں دو منٹ کی خاموشی سے کیا گیا۔ اجلاس میں موجودہ بین الاقوامی و ملکی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے کابینہ اراکین نے سیر حاصل گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کی طاقتیں مفادات کی جنگ لڑرہی ہیں۔ مظلوام اقوام کی نظریں اقوام متحدہ جیسے بین الاقوامی اداروں پر ہیں لیکن ان طاقتوں کا محور طاقت کا جنون اور سیاسی و معاشی مفادات ہیں۔ انسانیت اور امن کی چیمپئنز ممالک دراصل اپنی استعماریت کو دوام بخشنے کیلئے صرف حربے آزما رہے ہیں۔ لہذاً مظلوم اقوام کو ایک دوسرے سے ہم آہنگی مضبوط کرکے ایک دوسرے کا سہارا بننا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان سے امریکی انحلاءکے بعد استعماری قوتیں اب زیادہ متحرک ہوگئی ہیں۔ آج کی جنگ معاشی جنگ ہے۔ چین اور امریکہ جیسی استعماری یلغاروں کی نظریں مظلوم اقوام کے وسائل پر ہیں۔ اس معاشی جنگ میں دنیا کی طاقتوں کیلئے کمزور اور زیردست اقوام کا خون بہانا اہمیت نہیں رکھتا۔ ایران اور سعودی عرب کے درمیان انٹرنیشنل مافیاز کی کشمکش ہے۔ ایرانی بلوچستان میں حالیہ واقعات سے سینکڑوں بلوچوں کے قتل نے اس بات پر مہرثبت کردی ہے کہ ایرانی حکومت بلوچ نسل کشی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ بلوچ نوجوانوں کیلئے تعلیم کے دروازے بندکرنے کے ہتھکنڈے استعمال کیے جارہے ہیں۔ ایک طرف بلوچستان میں تعلیمی ادارے غیر فعال ہیں جبکہ دوسری جانب مخصوص نشستوں پر سیٹ حاصل کرکے وفاق اور پنجاب میں زیر تعلیم بلوچ طلباءکی پروفائلنگ اور ان کی سیٹوں پر ڈاکہ زنی جاری ہے۔ بلوچستان بھر کے کالجز میں بغیر کوئی تعلیمی پالیسی کے بی ایس او پروگرام کو چلایا جارہا ہے۔ کالجز میں اساتذہ اور اسٹاف کی کمی سے بی ایس پروگرام مکمل ناکام ہے۔ تعلیمی اداروں کی عمارتیں خستہ ہال ہیں جبکہ طالبعلموں کیلئے ہاسٹلز سمیت دیگر سہولیات کے دروازے بند کردیے گئے ہیں۔ رخشان اور خضدار میں یونیورسٹیز کا اعلان تو ہوا لیکن مزید اس پر پالیسی ہے اور نہ ہی اکیڈمک سیشن اسٹارٹ کی گئی ہے۔ جامعہ بلوچستان، تربت یونیورسٹی سمیت دیگر جامعات کو دانستہ طور پر مالی بحران کا شکار بنا دیا گیا ہے۔ چھ مہینے کے سمسٹر کو دو مہینوں میں مکمل کرنا تعلیمی تباہ حالی ہے۔ اداروں میں انتظامی پوسٹوں پر سفارشی بنیادوں پر تعیناتیوں سے ادارے گروپ بندی کا شکار ہیں۔ اکیڈمک حوالے سے ادارے بدحالی کا شکار ہیں۔ جامعات میں معیاری ریسرچ کے بجائے رٹہ سسٹم کو متعارف کروایا گیا ہے۔ کابینہ اجلاس میں اراکین نے تنظیم کی گزشتہ کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تنظیمی اراکین کی انتھک جدوجہد اور واضح سیاسی پیغام کی وجہ سے بی ایس او روز بروز بلوچ طلباءمیں مقبول ہوتی جارہی ہے۔ تنظیم نے ہروقت دوسرے طلباءتنظیموں سے اتحاد اور مشترکہ جدوجہد کیلئے راہ ہموار کی۔ بلوچ طلباءکے مسائل اور قومی مفاد کی بنیاد پر تمام ترقی پسند و قوم پرست تنظیموں کے ساتھ اتحاد کیلئے تیار ہیں۔ طلباءسیاست پر جس طرح بیرونی سازشیں اثر انداز ہورہی ہیں اس سے زیادہ غیر سیاسی رویوں اور انا پرستی نے طلباءکو تقسیم کا شکار بنا دیا۔ عصر حاضر کے تقاضے اس بات کے متاضی ہیں کہ بلوچ طالبعلم مزید انتشار و تقسیم کا شکار نہ بنیں۔ انہوں نے کہا کہ تنظیم اس وقت بلوچ طالبعلموں کیلئے واحد امید ہے۔ نیشنلزم کے واضح پیغام کے ساتھ بلوچ نوجوانوں کی سیاسی تربیت کررہے ہیں۔ تنظیمی کارکنان سیاسی ماحول کے فروغ اور قومی یکجہتی کیلئے کوشاں رہیں۔ کابینہ اجلاس نے گزشتہ سینٹرل کمیٹی کے فیصلوں کی توثیق کرتے ہوئے مختلف تنظیمی فیصلے لیے۔ جبکہ تنظیمی نظم و نسق کی مزید بہتری اور تنظیم سازی پر زور دیتے ہوئے کابینہ اجلاس نے جامعہ بلوچستان میں پیش آنے والے چند ناخوشگوار واقعات کی مکمل رپورٹ کے بعد آئینی خلاف ورزی پر جامعہ بلوچستان یونٹ اور شال زون کے چند اراکین کو شوکاز نوٹسز جاری کرنے کی منظوری دے دی اور جامعہ بلوچستان یونٹ کے رکن ابرار بلوچ کو تین مہینے کیلئے معطل کرنے کی بھی منظوری دے دی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں