افسوس سندھ کی جانب سے اب بھی زہریلا پانی چھوڑا جارہا ہے ‘ گورنربلوچستان
گنداخہ:قائم مقام گورنر بلوچستان میر جان محمد خان جمالی نے کہا کہ اوستا محمد ضلع تو بن گیا مگر سیلاب میں مکمل طور پر ڈوبا ہوا ملا ہے تحصیل گنداخہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے اس وقت بھی پانی بہہ رہا ہے راستے بند ہیں مستقبل میں گندم کے صل ہونے کا امکان نہیں ہے افسوس کی بات ہے کہ اب بھی سندھ کی جانب سے زہریلا پانی چھوڑا جارہاہے جوکہ انسانوں کے ساتھ ساتھ جانوروں کیلئے بھی انتہائی خطرناک ہے مگر ہم ناامید نہیں ہیں گنداخہ تحصیل ہیڈکوارٹر ہے جس میں اسسٹنٹ کمشنر سمیت ڈاکٹروں کی بھی تعیناتی کی جائے گی گنداخہ میں الفلاح بینک کی جانب سے لگائے گئے میڈیکل کیمپ کے دورے کے موقع پر میر جان محمد خان جمالی کا کہنا تھا کہ مستقبل میں یہاں پولیس اسٹیشنوں میں اضافے کے ساتھ ڈی ایس پی کی تعیناتی واٹر سپلائی اسکیم اور سندھ کے راستوں کی بحالی کی جائے گی کیونکہ یہاں زیادہ تر کاروبار سندھ سے وابستہ ہے غوث پور گنداخہ باغٹیل روڈ کے پیسے منظور کئے ہوئے ہیں پانی کی سطح کم ہونے کے بعد کام کا آغاز کیا جائے گا اس سال چاول کی فصل کو بہت بڑا نقصان ہوا ہے جس کی وجہ سے مزدور طبقہ سخت متاثر ہوا ہے کوشش کریں گے کہ ان کی بحالی کیلئے کوئی راستہ نکالیں اوستا محمد ضلع میں ریلیف کیلئے اقدامات کررہے ہیں 2010 سے زیادہ تباہی ہوئی ہے بلوچستان کے 32 اضلاع متاثر ہوئے ہیں پورا علاقہ پانی کے تالاب کا منظر پیش کررہا ہے مال مویشی مرگئے ہیں لوگ ابھی تک سیف اللہ مگسی کینال پر بیٹھے ہوئے ہیں ان کے گھر گرگئے ہیں اور وہاں ابھی پانی کھڑا ہے بہت سکول بند ہیں اور ان کی چھتیں گر رہے ہیں لوگ خوف کی وجہ سے بچوں کو سکول نہیں بھیج رہے ہیں الفلاح بینک کے پاکستان کے آرنر عاطف باجوہ صاحب نومبر میں آرہے ہیں ان سے لیٹ ورائٹی سرسوں کے بیج مانگا ہے جس کو ان علاقوں میں کاشت کرکے اچھی پیداوار حاصل کی جاسکے گی جبکہ ان کی تعاون سے گنداخہ میں شیلٹر بھی فراہم کئے جائیں گے اوستا محمد اور گنداخہ سٹی ایریا کو مستقبل میں سیلاب صورتحال سے بچانے کیلئے بند لگائے جائیں گے تاکہ ان کو نقصان نہ ہو یہاں تعمیراتی کاموں میں دوسرے صوبوں سے مزدور آتے ہیں ٹھیکیداروں کو ہدایت کروں گا کہ یہاں کے مقامی لوگوں کو مزدوری پر رکھیں۔


