سیلاب متاثرین کو امداد کی تقسیم کے حوالے سے کوئی شکایات نہیں ہونا چاہیے، وزیراعظم
صحبت پور، کوئٹہ (انتخاب نیوز) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں کھڑا پانی بڑا چیلنج ہے، اس پانی سے پیدا ہونے والی بیماریاں پھیلنے کا خدشہ ہے، سندھ اور بلوچستان کے وزرا اعلی اور تمام متعلقہ محکمے مل کر اس کھڑے پانی کو نکالنے کے حوالہ سے حکمت عملی مرتب کریں جبکہ وزیراعظم کو بتایا گیا کہ 88 فیصد متاثرین میں 25 ہزار روپے کی نقد رقم تقسیم کر دی گئی ہے، گھروں کے نقصان پر معاوضے کی ادائیگی کا کام بھی جلد شروع کردیا جائے گا، علاقہ میں کھڑا پانی فصلوں کی بوائی کیلئے بھی استعمال میں لایا جا سکے گا۔پیر کو بلوچستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقہ صحبت پور کے دورہ کے موقع پر وزیراعظم کو بتایا گیا کہ ماڈل سکول کا پی سی ون بنا دیا گیا ہے، اسکول کو جلد مکمل کیا جائے گا جس پر وزیراعظم نے کہا کہ اس اسکول کے قیام کیلئے دو ماہ کا وقت دیا گیا تھا، اگست اور ستمبر کے بجلی کے بل متاثرین سے نہیں لئے گئے، 25 ہزار روپے کی نقد رقم کیلئے 3900 سے زیادہ خاندانوں کی رجسٹریشن کردی گئی ہے، یہ عمل تھوڑا سست ہے جس کیلئے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذمہ داران کو بھی یہاں بلایا گیا ہے۔ وزیراعظم کو بتایا گیا کہ سیلاب سے متاثرہ پانچ اضلاع میں مشینری کام کر رہی ہے، وبائی امراض کو روکنے کیلئے اسپرے کیا گیا ہے،11 ہزار 126 خاندانوں کو25 ہزار روپے فی کس کی فراہمی کردی گئی ہے۔ وزیراعظم کو بتایا گیا کہ فلڈ ریلیف کا کام 88 فیصد مکمل کرلیا گیا ہے۔ وزیراعظم کو بتایا گیا کہ ہاﺅسنگ کے حوالے سے معاوضے کی تقسیم کا کام آخری مراحل میں ہے، اس کیلئے اعداد و شمار ایک ہفتہ میں مکمل کرلئے جائیں گے۔ وزیراعظم نے اس موقع پر کاشتکاروں کو بیج کی فراہمی کے حوالے سے آگاہ کیا کہ اس کیلئے 16 ارب روپے کا پلان بنا کر بھیج دیا گیا ہے، اس حوالہ سے 25 اکتوبر کو اسلام آباد میں اجلاس رکھا گیا ہے۔ وزیراعظم کو بتایا گیا کہ متاثرین میں ایک لاکھ سے زائد خیمے تقسیم کئے گئے۔ اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ صحبت پور کا علاقہ بلوچستان میں سیلاب سے بری طرح متاثر ہوا ہے، یہاں ہر طرف پانی کھڑا ہے، پانی کی سطح کم ہوئی ہے تاہم یہ ابھی تک موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ متاثرین میں 25 ہزار روپے کی تقسیم کا کام 86 فیصد تک مکمل ہو چکا ہے، پانچ ارب روپے تقسیم کئے جاچکے ہیں، اسی طرح ان علاقوں کے متاثرین سے 300 یونٹ تک کے اگست اور ستمبر کے بجلی کے بل ان سے نہیں لئے جارہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ بیجوں کی تقسیم کا کام صوبوں کے ساتھ مل کر جلد شروع کریں گے، متاثرہ علاقوں میں پانی کھڑے ہونے پر تشویش ہے کیونکہ اس سے بیماریاں پھیل سکتی ہیں جس سے بڑے پیمانے پر نقصان کا خطرہ ہے، اس پانی کو نکالنے کیلئے انتظام کیا جائے، اس پر ماہرین بیٹھیں اور طے کریں، اگر اسی طرح پانی کھڑا رہا تو اس سے بہت نقصان ہوگا، این ڈی ایم اے وزیراعلیٰ سندھ، بلوچستان سے رابطہ کرکے اس پانی کو نکالنے کیلئے اپنی توانائیاں صرف کرے۔وزیراعظم کو بتایا گیا کہ پانچ فلٹریشن پلانٹ بھی پینے کے صاف پانی کی فراہمی کیلئے لگائے گئے ہیں جبکہ وزیراعظم کی ہدایت پر متاثرین کو پینے کیلئے منرل واٹر بھی فراہم کیا جارہا ہے۔ وزیراعظم کو بتایا گیا کہ پٹ فیڈر کینال کو مکمل طور پر مرمت کردیا گیا ہے، تین ہزار ایکوا ٹیبلٹ اور 70 ہزار مچھردانیاں تقسیم کی گئیں، ملیریا کی شرح 80 فیصد تک پہنچ گئی تھی تاہم اب اس میں نمایاں کمی آئی ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ متاثرین کو ریلیف اور خیموں کی تقسیم کے حوالہ سے کسی قسم کی شکایات نہیں آنی چاہئیں۔ وزیراعظم کو کمشنر نے بتایا کہ پٹ فیڈر کینال کے ساتھ نکاسی آب کا نظام بھی موجود ہے جس کے ذریعے یہ کھڑا پانی نکالا جائے جہاں بھی شگاف پڑے تھے انہیں بند کر دیا ہے، ماڈل سکول کی جگہ سے پانی نکال دیا گیا ہے۔ وزیراعظم نے انہیں ہدایت کی کہ اس سکول کا منصوبہ ایک ماہ میں مکمل کیا جائے۔ اس موقع پر وزیراعظم کے ہمراہ وزیراعلی بلوچستان عبدالقدوس بزنجو اور بی این پی کے رہنما اختر مینگل بھی موجود تھے۔


