لسبیلہ یونیورسٹی کی طالبات کو ہراساں کرنا قابل مذمت ہے، طلبہ پر جھوٹے مقدمات واپس لیے جائیں، بی ایس ایف
اوتھل (انتخاب نیوز) لسبیلہ یونیورسٹی انتظامیہ کا فیمیل اسٹوڈنٹ سمیت دیگر طلبا کو رسٹیکیٹ کرکے انکے خلاف جھوٹی ایف آئی آر درج کرنا انتظامیہ کی خواس باختگی ہے، طلباءکو انکے حقوق سے دستبردار نہیں کیا جاسکتا۔ بلوچ اسٹوڈنٹس فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ 19 اکتوبر بروز بدھ کو طلباءکے جائز حقوق کے لئے یونیورسٹی میں ایک پرامن احتجاجی ریلی کا انعقاد کیا گیا، دوران احتجاج انتظامیہ کی جانب احتجاج کو سبوتاژ کرنے کیلئے یونیورسٹی کے سیکورٹی اہلکاروں نے طلباءپر تشدد کرکے فیمیل اسٹوڈنٹس کو حراساں کرنے کی کوشش کی لیکن طلباءنے پرامن طریقے سے احتجاج کو برقرار رکھتے ہوئے یونیورسٹی کے ایڈمن کے سامنے دھرنا دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ دھرنے کے دوران وائس چانسلر نے طلباءکو اپنے آفس میں بلا کر ان کے ساتھ تفصیل سے بات چیت کرکے مسائل کو حل کرنے کی یقین دہانی کی اور دوسری جانب انہوں نے طلباءکو رسٹیکیٹ دے کر انکے خلاف جھوٹی ایف آر درج کرایا، یہ عمل انکے دوغلا پالیسیوں کی عکاسی ہے، طلباءکو جائز حقوق کے مطالبات پر رسٹیکیٹ دینا اور انکے خلاف ایف آئی آر درج کرنا اس بات کی غماز ہے کہ انتظامیہ اپنی کرپشن اور اقرباپروری کو مزید جاری کرنا چاہتا ہے۔ ایسے ہتھکنڈوں سے طلباءکی حوصلہ شکنی نہیں کی جاسکتی بلکہ وہ اپنے حقوق کیلئے توانابخش قوت کے ساتھ جدوجہد کو جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ لسبیلہ یونیورسٹی کی انتظامیہ نے طلباءکے اسکالرشپس کو بڑے اور اعلیٰ عہدوں پر فائز لوگوں کو دی ہیں جو کہ غریب طلباءکے ساتھ سراسر ظلم اور زیادتی کے مترادف ہے، گرلز ہاسٹل میں لائبریری، بلوچی اور براہوئی ڈپارٹمنٹ کا قیام، فیس میں بے تہاشا اضافہ، انٹرنیٹ، بجلی اور دیگر تمام تر بنیادی سہولیات میسر نہ ہونے کے ساتھ ساتھ طلباءکو مختلف طریقوں سے بلیک میل کرنے کے حربوں کو استعمال کیا جا رہا یے جو کہ انتہائی قابل افسوس اور تشویشناک عمل ہے، ہم ان غیر آئینی اور غیر قانونی رویوں کے خلاف ہر فورم پر آواز اٹھاکر انتظامیہ کو بے نقاب کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ طلباءکو رسٹیکیٹ کرنے اور انکے خلاف جھوٹی ایف آئی آر درج کرنے کے بعد وائس چانسلر نے گرلز ہاسٹل کا دورہ کرکے انکے مسائل کو حل کرنے کی جھوٹی یقین دہانی کرکے انکو سیاست سے دور رہنے کیلئے کہہ کر یہ بات ثابت کیا کہ وہ طلباءکی قوت کو منتشر کرکے اپنی من مانیوں کو برقرار رکھنا چاہتا ہے، انہوں نے کہا کہ بلوچ طلباءکو مختلف تعلیمی اداروں میں مختلف مسائل میں الجھا کر انکو اپنی قومی ذمہ داریوں سے بیگانہ کرنے کی ناکام کوشش کیا جارہا ہے ایسے ہتھکنڈوں کو استعمال کرنا بلوچ طلباءکو تعلیم سے دور رکھنے اور انکے ہاتھوں سے قلم چھیننے کی پالیسیوں کا تسلسل ہے۔ انہوں نے اپنے بییان کے آخر میں کہا کہ لسبیلہ یونیورسٹی انتظامیہ کے ناروا سلوک اور غیرآئینی اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں، پرامن احتجاج سے حواس باختہ ہوکر طلباءکیخلاف جھوٹی ایف آئی آر اور رسٹیکیشن کیخلاف شدید احتجاج کرکے ہر فورم پر آواز اٹھائیں گے، یونیورسٹی انتظامیہ کو واضح طور پر بتانا چاہتے ہیں کہ وہ اپنے اس غیرآئینی عمل پر نظرثانی کرکے تین دن کے اندر طلباءکے رسٹیکیشن کا نوٹیفکیشن واپس لینے کے ساتھ ساتھ انکے خلاف جھوٹی ایف آر کو واپس لیں بصورت دیگر بلوچ طلباءاپنے جائز حقوق کیلئے ہر صورت میں آواز اٹھا کر دیگر تمام تنظیموں سے مشترکہ لائحہ عمل طے کر تمام طلباءکے ساتھ مل کر مختلف جگہوں میں احتجاج ریکارڈ کرینگے۔


