اوستہ محمد میں سیلاب کو دو ماہ بیت گئے، سڑکوں پر حکومتی امداد کے منتظر ہیں، متاثرین

اوستہ محمد (انتخاب نیوز) گوٹھ نور محمد جلبانی فیض آباد بیرون و اوستہ محمد سٹی کے بارش اور سیلاب متاثرین کو امدادی سامان نہ ملنے کیخلاف اے سی آفس کے سامنے انسانی حقوق کے تحفظ کی تنظیم کے صدر منصب علی عمرانی کی قیادت میں احتجاجی کیمپ قائم کیا گیا ہے۔ احتجاج کے پانچویں روز بھی کسی سرکاری ادارے یا سماجی تنظیم نے مظاہرین سے رابطہ نہیں کیا۔ اوستہ محمد گنداخہ فیض آباد بیرون کے سیلاب متاثرین کو ریلیف یا راشن نہ ملنے متاثرین سراپا احتجاج ہیں، اسسٹنٹ کمشنر اوستہ محمد کیخلاف آج پانچویں روز جاری احتجاج کے موقع پر انسانی حقوق کے صدر منصب عمرانی، نور محمد جلبانی، لشکر خان کٹوہر مگسی بھائی خان رند و دیگر سیلاب متاثرین کا کہنا ہے کہ سیلاب کو دو ماہ کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن آج تک ہمیں نا راشن ملا ہے اور نا ہی ٹینٹ ملا ہے ہم سڑکوں پر بے یارو مددگار پڑے ہیں لیکن ہماری کوئی بھی نہیں سن رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے بچے بھوک اور پیاس سے تڑپ رہے ہیں بچے اور عمر رسیدہ افراد ملیریا سمیت مختلف بیماریوں میں مبتلا ہوچکے ہیں لیکن افسوس سے کہنا پڑرہا ہے کہ حکومت اور ضلعی انتظامیہ کوئی بھی توجہ نہیں دے رہی، ہم نے مجبور ہو کر آج اسسٹنٹ کمشنر کے آفس کے سامنے احتجاجی کیمپ قائم کردیا ہے اگر ہمارا مطالبہ تسلیم نہ کیا گیا تو ہم بھوک ہڑتال پر بیٹھیں گے۔ انہوں نے صوبائی حکومت بلوچستان کمشنر نصیر آباد ڈپٹی کمشنر اوستہ محمد اور این جی اوز سے پر زور اپیل کی کہ وہ ہمیں راشن ٹینٹ کی فراہمی کے لیے عملی اقدام اٹھائیں ورنہ ہمارا احتجاج جاری رہے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں