ٹیچنگ ہسپتال نوشکی کی عمارت 10 سال سے تعمیر نہ ہوسکی، 81 اسامیاں خالی

نوشکی (انتخاب نیوز) حکومتی عدم دلچسپی نوشکی میں صحت کا شعبہ زوال کی جانب گامزن پچاس بیڈ پر مشتمل ہسپتال بارہ سال سے زیر تعمیر جبکہ ٹیچنگ ہسپتال نوشکی میں اسپیشلسٹ سرجن ڈاکٹروں لیڈی ڈاکٹروں گریڈ 16 گریڈ 17 گریڈ18 ا ور گریڈ 19 کی سیکشن 110 اسامیوں پر صرف 29 اسامیوں پر ڈاکٹر اور دیگر اسٹاف اپنے فرائض منصبی سرانجام دے رہے ہیں جبکہ 81 اسامیاں خالی ہیں جس کی وجہ سے نوشکی کے عوام کو صحت حوالے سے انتہائی مشکلات دشواریوں اور مصائب کا سامنا کرنا پڑرہا ہے جس کی وجہ سے نوشکی کے غریب عوام کو ٹیچنگ ہسپتال میں اسپیشلسٹ آئی اسپیشلسٹ کی اسامیاں خالی ہونے کی وجہ سے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کا رخ کرنا پڑتا ہے، جس کی وجہ سے غریب مریضوں کو مالی مصائب مشکلات دشواریوں اور وقت کے ضیاع سے بھی دوچار ہونا پڑتا ہے، ٹیچنگ ہسپتال میں مذکورہ اسامیاں برسوں سے خالی ہے، جس سے صوبائی حکومت اور محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام کی عدم توجہ اور کارکردگی کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے، ٹیچنگ ہسپتال کے ادویات کا کوٹہ بھی ناکافی ہے، آبادی کے تناسب سے ادویات کے کوٹہ میں اضافہ کیا جائے دیگر صوبوں کے عوام کو ہیلتھ کارڈ کے ذریعے صحت کی سہولیات میسر ہیں لیکن قدرتی وسائل سے مالامال خطے رخشان ڈویژن کے عوام 21ویں صدی میں بھی صحت کی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، نوشکی میں دس سال قبل پچاس بیڈ پر مشتمل ہسپتال تعمیر کرنے کا کام شروع کیا گیا لیکن مختلف وجوہات کی بنا پر ہسپتال کی بلڈنگ مکمل نہ ہوسکی اور اب بارہ سال سے زیر تعمیر ہسپتال کا کام ایک عرصے سے رکا ہوا ہے، ہسپتال کی تعمیر کا کام بروقت مکمل نہ کرنے سے جہاں لوگ ایک طرف صحت کی سہولت سے محروم ہیں، دوسری جانب بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے قومی خزانے کو بھی کروڑوں روپے کا نقصان پہنچا اگر دس سال قبل ہسپتال کی بلڈنگ تعمیر ہوتی تو مہنگائی کے باعث اضافی اخراجات نہ اٹھانے پڑھتے۔ عوامی اور سماجی حلقوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان، صوبائی وزیر صحت، چیف سیکرٹری بلوچستان اور سیکرٹری صحت کی توجہ ٹیچنگ ہسپتال نوشکی میں 81 خالی اسامیوں پر اسپیشلسٹ ڈاکٹروں کی عدم تعیناتی کا فوری نوٹس لیتے ہوئے اسپیشلسٹ اور دیگر ڈاکٹروں کی تعیناتی فوری طور پر عمل میں لانے کے لیے اقدامات کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں