محکمہ سماجی بہبود میں کرپٹ افسران نے بدعنوانی کا بازار گرم کر رکھا ہے، بی این پی
کوئٹہ (انتخاب نیوز)بلوچستان نیشنل پارٹی ضلع کوئٹہ کے ایک جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ محکمہ سماجی بہبود ایک ایسا ادارہ ہے جہاں پر غریب نادار مستحق اور معذور افراد کی داد رسی کی جاتی ہے مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ عرصہ چار سال سے محکمہ میں کرپٹ ڈائریکٹر جنرل اور اس کی کرپٹ ٹیم نے بدعنوانی اور کرپشن کا بازار گرم کر رکھا ہے، ہنر مند پروگرام میں پچھتر کروڑ روپے سے زائد رقم کی سرعام لوٹ کھسوٹ کی گئی مگر کوئی پرسان حال نہیں محکمہ سماجی بہبود میں ایک ایسے نااہل شخص کو ڈائریکٹر جنرل تعینات کیا گیا ہے جو بنیادی طور پر گورنمنٹ رولز کے مطابق سول سرونٹ ہی نہیں ہے وہ کو آپریٹیو سوسائٹی میں بطور کلرک کام کرتا رہا، اس شخص کو ان شرائط پر محکمہ سماجی بہبود میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر تعینات کیا گیا تھا کہ وہ تین سال کے اندر اندر پبلک سروس کمیشن میں امتحان دینے کا پابند ہوگا مگر بغیر کمیشن پاس کئے تا حال غیر قانونی طور پر سرکاری ملازمت پر براجمان ہے، دوران ملازمت انہوں نے ریگولر ایم اے اکنامکس کیا ہے جو کہ سراسر خلاف قانون ہے اور متعلقہ ڈگری غلط طریقے سے حاصل کی، بلوچستان نیشنل پارٹی نے مختلف فورم پر اعلیٰ حکام، چیف سیکرٹری بلوچستان کو محکمہ سماجی بہبود میں ہونے والی کرپشن اور غیرقانونی تعیناتیوں کے بارے میں آگاہ کرتی رہی مگر اعلیٰ حکام کی جانب سے مسلسل خاموشی ایک سوالیہ نشان ہے انہوں نے کہا کہ بی این پی کے رکن صوبائی اسمبلی اختر حسین لانگو نے بلوچستان اسمبلی میں مذکورہ ڈائریکٹر جنرل کی کرپشن کی تفصیلات سے بھی آگاہ کیا مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ تاحال کوئی کاروائی نہیں کی گئی محکمہ سماجی بہبود میں ہونے والی بھرتیوں میں بے قاعدگیاں کرتے ہوئے ناظم اعلی اور کمیٹی ممبران نے جس طرح اپنے عزیز اقارب کو نوازا اور آپس میں آسامیوں کی بندر بانٹ کی گئی اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی سرعام میرٹ کا قتل کیا گیا انہوں نے ایک بار پھر چیف سیکرٹری بلوچستان سے بھرپور اپیل کی ہے کہ محکمہ سماجی بہبود میں ہونے والی بے قاعدگیوں پر فوری طور پر نوٹس لیتے ہوئے تحقیقاتی کمیٹی قائم کی جائے تاکہ حقداروں کو انصاف فراہم ہو سکے اور کرپٹ ٹولہ اپنے منطقی انجام کو پہنچ پائے۔


