میانمر فوج کے خلاف سخت موقف ناگزیر ہے،اقوام متحدہ

نیویارک (ویب ڈیسک) میانمر کے لیے اقوام متحدہ کے سفیر نے فوجی جنتا پر پابندیاں اور ہتھیاروں کی فراہم پر پابندی لگانے کی اپیل کردی۔ ان کا کہنا ہے کہ میانمر میں شہریوں کے خلاف روسی ہتھیار استعمال کیے جا رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے میانمر میں انسانی حقوق کے سفیر ٹوم اینڈریوز نے مختلف ممالک ں پر مشتمل اتحاد سے اپیل کی کہ میانمر کے فوجی عہدیداروں پر پابندیاں اور اسے ہتھیاروں کی سپلائی پر اسی طرح پابندی عائد کردیں جس طرح انہوں نے یوکرین پر ماسکو کی فوجی کارروائی کے بعد روس کے خلاف کی تھی۔

انہوں نے میانمر کے فوجی حکمرانوں پر دباو بڑھانے کا مطالبہ کیا۔ اینڈریوز نے کہا کہ بین الاقوامی براداری کو اپنی کوششوں کو مربوط کرنا چاہیے ۔اینڈریوز نے میانمار کی داخلی صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی برادری کی جانب سے سنجیدہ اقدامات نہ ہونے کے باعث ملکی حالات بگڑ رہے ہیں۔

عالمی برادری میانمار کے عوام کا ساتھ دینے میں ناکام دکھائی دے رہی ہے۔ واضح رہے کہ یکم فروری 2021 ء میں بغاوت کے ذریعے جمہوری حکومت کو معزول کرنے کے بعد سے یوکرین میں فوجی حکومت قائم ہے۔ ملک میں بغاوت کے بعد سے مخالفین کے خلاف میانمر کی فوج کی جانب سے کی جانے والی کارروائیوں میں 2300 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔اتوار کے روز شمالی کاچن ریاست میں ایک جلسے پر فوج کے فضائی حملے میں 80شہری ہلاک ہوگئے تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں