بلوچستان کی گورنر شپ ملنے کے بعد بی این پی تمام مسائل بھول گئی،حق دو تحریک

گوادر (انتخاب نیوز) حق دو تحریک بلوچستان کے دھرنے کو ایک ہفتہ مکمل ہوگیا۔ سات روز گزرنے کے باوجود حکومت بلوچستان مطالبات تسلیم کرنے سے گریزاں۔ حق دو تحریک کی جانب سے گزشتہ شب حکومت بلوچستان کا جنازہ نکالا گیا۔ حکومت بلوچستان کے جنازے کو بذریعہ ایمبولنس ملا موسیٰ موڑ تک لایا گیا پھر حق دو تحریک کے کارکنان نے ملا موسیٰ موڑ سے لیکر دھرنا گاہ تک جنازے کے تابوت کو کندھا دیا۔ ساتویں روز خطاب کرتے ہوئے حق دو تحریک بلوچستان کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمن نے کہا کہ بی این پی مینگل منافقانہ سیاست کررہی ہے۔ جی ڈی اے ہسپتال کو انڈس ہسپتال کو حوالگی کی تقریب میں بی این پی گوادر کے ایم پی اے بی اے پی کے وزیراعلیٰ کی تعریف میں ایسا لگا ہوا ہے جیسے وزیراعلیٰ ایم پی اے کا سگا بھائی ہو۔ بی اے پی پارٹی کہاں بنی اور کس نے بنائی یہ سب باتیں سردار اختر مینگل خود وضاحت کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی این پی کے سربراہ اختر مینگل نے لاپتہ افراد کے لواحقین کو یقین دلایا تھا کہ انکے وارثان کو تین ماہ کے اندر بازیاب کیا جائے گا مگر نوجوان تاحال غائب ہیں، اسکے بدلے بی این پی مینگل کو بلوچستان کی گورنر شپ مل گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حق دو تحریک نے 27 اکتوبر کے دن کو دھرنے کے لیے اس لیے چنا کیونکہ یہ سیزن ماہیگیروں کا سیزن ہے لیکن جیونی سے لیکر گڈانی تک ٹرالر مافیا ٹرالنگ میں مصروف ہے، آج اگر ہم نے سرکار کو ٹرالرنگ روکنے کے لیے پریشر نہیں دیا تو ٹرالر مافیا سمندر کو تاراج کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ جو یہ تسلیم نہیں کرتے کہ بلوچستان کے سمندر میں ٹرالنگ ہورہی ہے تو وہ ٹرالر مافیا کے حق میں ریلی نکالیں۔ صوبائی حکومت، محکمہ فشریز اور ایم پی اے گوادر بھتہ گیری میں مصروف ہیں، اس لیے علاقے کے ایم پی اے نے چپ سادھ لی ہے۔ انہوں نے کہاکہ بارڈر پر کاروبار کرنے کے فوائد ایف سی اور کوسٹ گارڈ کو مل رہے ہیں، کنٹانی بارڈر سے لیکر ناکہ کھارڈی تک ایف سی اور کوسٹ گارڈ کی چین لگی ہوئی ہیں اور وہ بھتہ گیری میں مصروف ہیں، جسکے سبب کرنل و جرنل آباد ہورہے ہیں۔ اس لیے ہم کہتے ہیں کہ بارڈر پر آزادانہ کاروبار ہو تاکہ اسکے فوائد غریب عوام کو مل سکیں اور بارڈر کے نام پر بنائی گئی پارٹیوں کی یونین کا بھی فوری خاتمہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ادھر منشیات بھی بڑا مسئلہ ہے۔ دن دہاڑے منشیات کا کاروبار جاری ہے، اسکی فوری روک تھام کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ حق دو تحریک کے تمام مطالبات جائز ہیں، ہم حقوق کی بات کرتے ہیں تو ہمیں طاقت کی دھمکی دی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر طاقت کا استعمال کیا گیا تو پلان B تیار کیا جائے گا۔ حق دو تحریک کے ایک بھی کارکن کو نقصان پہنچا تو ہم ایم پی اے کا جینا حرام کردینگے اور ان کو گوادر سے بھاگنے نہیں دینگے۔ انہوں نے کہا کہ جی ڈی اے ہسپتال کو انڈس ہسپتال کے حوالے کرنا گوادر کے عوام کی جدوجہد کا ثمر ہے، یہ کریڈٹ صرف گوادر عوام کو جاتا ہے لیکن چالیس سال سے گوادر میں حکمرانی کرنے والا ٹولہ اس کریڈٹ کو اپنے نام کررہا ہے اگر ان کی کوئی کارکردگی ہوتی تو وہ چالیس سال پہلے اس طرح کے کارنامے سرانجام دیتے۔ دھرنے سے سینئر سیاستدان حسین واڈیلہ، شریف میانداد و دیگر نے بھی خطاب کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں