نیپرا کی اسٹیٹ آف انڈسٹری رپورٹ 2019

اداریہ
نیپرا نے اسٹیٹ آف انڈسٹری رپورٹ2019جاری کر دی ہے اس رپورٹ میں 30جون 2019 کا ڈیٹا بھی شامل ہے۔رپورٹ کے مطابق ایل این جی کے طویل مدتی معاہدوں کے باعث صارفین کو مہنگی بجلی فراہم کی جارہی ہے۔ایل این جی کے معاہدے اس راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔یاد رہے کہ ایل این جی مہنگے داموں خریداری کا معاہدہ مسلم لیگ نون لیگ کے دور حکومت میں کیا گیا تھا اور اس میں طے کیا گیا تھاعالمی سطح پر ہونے والے ایل این جی کی قیمتوں میں ہونے والے اتار چڑھاؤ کا اطلاق 15سال تک نہیں ہوگا یعنی اگر دنیا میں ایل این جی سستی ہو جائے تب بھی پاکستان اسی قیمت پر خریدنے کا پابند ہو گا۔ایل این جی کی قیمت کرونا وائرس کے باعث بہت کم ہوگئی ہے مگر پاکستان مسلم لیگ نون کے غیر دانشمندانہ اور خودغرضانہ فیصلے کے باعث سستی ایل این جی نہیں خرید سکتا بلکہ پرانے ریٹ پر ہی آئندہ کئی برس تک خریدنے پر مجبور رہے گا اس حوالے سے مقدمہ اور تفتیش جاری ہے امید ہے جلد ہی قانون کے مطابق فیصلہ سامنے آجائے گا۔بین الاقوامی معاہدے سوچ سمجھ کر نہ کئے جائیں یا معاہدے پر پاکستان کی جانب سے دستخط کرنے والوں کی آنکھیں ذاتی مفادات کی بناء پر چندھیا جائیں اور ان کی عقل پر پردے پڑ جائیں تو ملک اور عوام شدید مشکلات کے بوجھ تلے دب جاتے ہیں۔جیسا کہ ریکوڈک کاپر اینڈ گولڈ پروجیکٹ (اور اس سے پہلے سینڈک کاپر اینڈ گولڈ پروجیکٹ)کے علاوہ رینٹل بجلی گھر کے معاہدے میں پاکستان کے مفادات کے برعکس معاہدے کئے جا چکے تھے۔پاکستان کے ایک چیف جسٹس نے اپنی اندھی طاقت کے زعم میں عالمی معاہدوں کو یکطرفہ منسوخ کرنے کا خمیازہ بھی پاکستان کے عوام کو بھگتنا ہے۔لیکن وفاق کو نیپرا کی رپورٹ توجہ سے پڑھنے اور ترسیل اور تقسیم کے نظام میں پائی جانے والی جن خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے انہیں دور کرنے کے مناسب اقدامات کی اشد اور فوری ضرورت ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ لائن لاسز بدستور اسی سطح پر موجود ہیں جو ایک سال قبل تھی۔اس ضمن میں وفاقی وزیر بجلی و پانی نے ایک سے زائد بار اسمبلی کے فلور پر دعویٰ کر چکے ہیں کہ لائن اینڈ لاسز پر کافی حد تک قابو پا لیا ہے۔نیپرا رپورٹ میں اس دعوے کے برعکس حقائق پیش کئے گئے ہیں۔نیپرا رپورٹ میں اگر غلط اعدادوشمار پیش کئے گئے ہیں تو متعلقہ وزارت کی ذمہ داری ہے کہ بروقت اس کی تردید کرے اور عوام کے سامنے اصل حقائق پیش کرنے میں دیر نہ کی جائے ورنہ یہی سمجھا جائے گا نیپرا نے جو کچھ اپنی رپورٹ میں لکھا ہے وہ درست اور ناقابلِ تردید ہے اور متعلقہ وزارت کے پاس اپنے دفاع میں کہنے کو کچھ نہیں۔آج کل آئی پی پیز کے حوالے سے بھی ایک انکوائری کمیشن تحقیقات میں مصروف ہے۔ لیکن یہ بھی سننے میں آرہا ہے کہ جیسے ایل این جی معاہدے میں دوسرے فریق نے پاکستان سے ان کیمرا رعاتیں دینے کا اشارہ دیا ہے اسی طرح آئی پی پیز کے معاملے میں بھی بعض کمپنیوں کی جانب سے چین نے بھی پاکستانی حکومت کو ہلکا ہاتھ رکھنے اور ان کیمرا مراعات کی پیشکش کی ہے۔عام آدمی کو اس بحث یا اس راہ میں حائل الجھنوں کی نہ تو شدبد ہے نہ ہی یہ معاہدے عوام سے پوچھ کر یا ان کے علم میں لانے کے بعد کئے جاتے ہیں ایسے کاموں کو دیر تک راز میں رکھا جاتا ہے اور عوام کو اس وقت علم ہوتا ہے جب سینکڑوں ارب روپے کا بوجھ مہنگائی کی شکل میں عوام کی طرف منتقل کیا جاتا ہے۔اب کہا جارہا ہے گردشی قرضہ 500ارب روپے سے بڑھ گیا ہے جبکہ ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوسکاکہ پی پی پی دور کے ختم ہوتے ہی مسلم لیگ نون نے 480ارب روپے راتوں رات کسی آڈٹ کے بغیر آئی پی پیز کو ادا کردیئے تھے وہ جائز تھے یا ناجائز؟ اس لئے کہ آئی پی پیز میں نون لیگ کے حمایتی مالکان بیٹھے تھے۔ آج بھی صورت حال تقریباً وہی دکھائی دیتی ہے فرق صرف اتنا ہے کہ آج آئی پی پیز کے مالکان میں موجودہ حکومت کے مالکان نظر آتے ہیں۔ دوسری قدرِ مشترک یہ ہے کہ آج بھی عوام اتنے ہی بے بس ہیں جتنے وہ سابقہ ادوار میں نظر آتے تھے۔سارابوجھ عوام پر ڈالنے کی پرانی پالیسی پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔مہنگائی کی شرح اسٹیٹ بینک کی دو ماہی رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال12فیصد رہی جبکہ آئندہ مالی سال 9فیصد رہنے کی توقع ہے۔کورونا کو بہانہ بنا کر حکومت اپنی متعدد ناکامیوں سے بری الذمہ ہونے کی کوشش کر سکتی ہے مگر یہ بہانہ بازی شاید اسے فائدہ نہ دے سکے۔حکومت کی اتحادی جماعت ایم کیو ایم کے ایک وفد نے وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کر کے اپنے تحفظات سے آگاہ کیا ہے اس کے جواب میں وزیراعظم کا یہ کہنا:”ماضی میں سندھ کے مسائل کو نظر انداز کیا جاتا رہا ہے جبکہ ملک کی ترقی کراچی کی ترقی سے وابستہ ہے وفاق بھرپور تعاون کرے گا“اپنے اندر بدنصیبی اور نانصافی کی طویل داستان سموئے ہوئے ہے ابھی تک تعاون کے لئے مستقبل کا صیغہ استعمال کیا جانا اس امر کی غماضی کرتا ہے کہ ابھی تک ماضی والی صورت حال جوں کی توں برقرار ہے بال برابر تبدیلی نہیں آئی۔دوسرا اتحادی وزیر اعظم سے پوچھ رہا ہے:”کیاہماری ضرورت نہیں رہی؟“تیسراصوبہ قومی مالیاتی کمیشن میں نمائندگی کا حاصل کرنے کے لئے عدالت سے رجوع کر رہا ہے۔عوام سے لاک ڈاؤن کے ہونے نہ ہونے کی پہیلی بجھوائی جارہی ہے۔پہیلیاں بوجھوانے کی بجائے بتایا جائے حکومت کیا چاہتی ہے؟

اپنا تبصرہ بھیجیں