ڈی سی پنجگور اور انجمن تاجران بارڈر کو بند کرنے کی سازش کررہے ہیں، ن لیگی رہنما
پنجگور (انتخاب نیوز) پاکستان مسلم لیگ ن مکران کے ڈویژنل صدرِ اشرف ساگر نے بارڈر کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک پارٹی اور انجمن تاجران بارڈر کو بند کرنے کی سارش کر رہے ہیں اس دوران صبیر احمد جنرل سیکرٹری ادیب فتح، آفس سیکرٹری محمد آصف یونٹ صدر کلگ دلاور بلوچ یونٹ صدر خدابادان عبدالسمید راشد علی عبدالقدیر اور دیگر موجود تھے اشرف ساگر نے کہا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال سے بارڈر کے حوالے سے مختلف حیلے حربے استعمال کیے جارہے ہیں اور کاروباری لوگوں کو تنگ کرنے کا ایک سلسلہ شروع کیا گیا ہے عوام کے روز گار پر رکاوٹ ڈالنے کے لیے کبھی ٹوکن سسٹم اور کبھی اسٹیکرز سسٹم کے نام پر عوام کو تنگ کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجگور بارڈر سے50 ہزار افراد کا ذریعہ معاش وابستہ ہے، انہوں نے کہا کہ جب بارڈر کو اسٹیکرز سسٹم پر کیا گیا تو کہا گیا کہ جس سے ڈسپلن ہوگا اور گاڑیوں کے آنے جانے میں بہتری آئے گی جس پر سیاسی لوگوں نے اسٹیکرز سسٹم پر اتفاقِ کیا جب یہ سسٹم ایف سی کے پاس تھا تو 9 ہراز کے لک بھگ اسٹیکرز تھے جب بعد میں سسٹم کو ضلعی انتظامیہ کے حوالے کیا گیا تو مزید چار سے پانچ ہراز اس میں شامل کیے گئے مگر پنجگور کے دو اسسٹنٹ کمشنرز نے سسٹم کو تباہ کرکے اسٹیکرز کی تعداد 25 ہزار تک پہنچا دیا اور بڑے پیمانے پر بے قاعدگیاں کی ہیں اور جب سسٹم میں مشکلات آنا شروع ہوگئے تو موجود انتظامیہ نے سسٹم میں بہتری لانے کے لیے ری ویری فکیشن شروع کرنے کا اعلان کیا، جس پر تقریباً بیشتر سیاسی جماعتوں اور کاروباری لوگوں نے اتفاق کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے مختص کردہ پوائنٹ پر اپنی اپنی گاڑیوں کو کل کھڑا کردیا مگر اس دوران ایک سیاسی جماعت اور انجمن تاجران نے ری ویری فکیشن میں نہ حصہ لینے کا اعلان کرکے سی پیک روڈ پر دھرنا دیا تھا حالانکہ ڈپٹی کمشنر پنجگور نے دو روز قبل اپنے اعلامیے میں کہا تھا کہ تمام پارٹیوں کے دو دو اراکینِ کو کمیٹی میں شامل کیا گیا ہے مگر احتجاج اور دھرنے کے باوجود بات صرف یہاں ختم ہوا کہ پارٹی کے اراکینِ کو کمیٹی میں شامل کریں گے اس کا تو اعلان ڈپٹی کمشنر پنجگور تین روز پہلے کرکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں نے ہزاروں روپے کے تیل اپنے گاڑیوں میں ڈال کر ری ویری فکیشن کے پوائنٹ پر آئے تھے ان کا ازالہ کون کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ اس کا ذمہ دار کمشنر مکران اور احتجاج کرنے والی جماعت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمشنر مکران بارڈر کو بند کرنے کے سازش میں شامل ہیں اگر وہ مخلص ہوتے تو پروم بارڈر پر ہڑتال کرنے والوں کے پاس بھی جاتے اور دوسری پارٹیز اور گاڑی مالکان کی بھی بات سنتے مگر صرف ایک پارٹی کی بات سن کر واپس ہوگئے، ہم سمجھتے ہیں کہ ایک سازش کے تحت بارڈر کو بند کرکے لوگوں کو بے روزگار کرنے کی سازش ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب لوگ ری ویری فکیشن چاہتے ہیں تو انکار کیوں؟ انہوں نے چیف سیکرٹری بلوچستان وفاقی سیکرٹری داخلہ رانا ثنا اللہ صوبائی وزیر داخلہ سے اپیل کی ہے کہ بارڈر کی بندش کا نوٹس لیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بارڈر کو بند کرکے ہزاروں افراد کو بے روزگار کرنے کی کوشش کی گئی تو سخت سے سخت احتجاج کرینگے جس کی تمام تر ذمہ داری ان قوتوں پر عائد ہوگی جو بارڈر کو بند کرنے کی سازش کررہے ہیں اور اس سازش میں کمشنر مکران بھی شامل ہیں، کیونکہ اس نے صرف ایک پارٹی کو ساتھ دے کر اکثریت کو نظر انداز کر دیا ہے۔


