بلوچستانیوں کو عزت دو کے نعرے اور قبائلی رسم و رواج کے تحت پولیسنگ کریں گے، آئی جی پولیس
کوئٹہ (انتخاب نیوز) انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان عبدالخالق شیخ نے کہا کہ بڑھتی ہوئی آبادی پر نظر رکھتے ہوئے نئے تھانو ں کے قیام سے امن وامان میں مزید بہتری آئے گی بلوچستان میں مثالی امن قائم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ پولیس کا یکساں نظام لیویز پولیس میں ضمن کرنے کا سلسلہ سست روی کا شکار ہے بلوچستانیوں کو عزت دو کے نعرے کے ساتھ فورس میں اصلاحات لائی جارہی ہیں پولیس کو چیلنجز سے نمٹنے کیلئے جدید خطوط پراستوار کیا جارہا ہے عوام کے جان و مال کی حفاظت جرائم کے خاتمے، تخریب کاری کے ناسور سے نجات دلانے کیلئے پولیس افسران واہلکارمزید اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں۔ بلوچستان پولیس کی تاریخ قربانیوں سے بھر ی پڑی ہے کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں امن و امان کی بحالی کیلئے پولیس افسران و جوانوں کی قربانیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کا یہ مشن ہے کہ ہر نئے اسٹیشن کو شہداءکے بچوں خاندان سے افتتاح کر وائیں شہدا ہم سے ہیں ہم کبھی انہیں بھول نہیں سکتے اس موقع پر ڈی آئی پولیس کوئٹہ کیپٹن (ر) غلام اظفر مہیسر ‘ ایس ایس آپریشن عبدالحق عمرانی‘ایس ایس پی انوسٹی گیشن اسد خان ناصر سرکل ایس پیز سمیت دیگر پولیس افسران بھی موجود تھے آئی جی پولیس نے کہا کہ کوئٹہ کی آبادی کے لحاظ سے تھانوں کی تعداد انہتائی کم تھی آبادی کے لحاظ سے شہر میں جرائم کی روک تھا م کیلئے تھانوں میں اضافہ کیا جارہا ہے جناح ٹاﺅن اور شہید جمیل کاکڑ تھانے کا اضافہ اسی سلسلے کی کڑی ہے، نئے تھانے کی تعمیر سے لوگوں اور علاقہ مکینوں میں پائے جانے والے عد م تحفظ کے خوف کو ختم کرنے میں مدد ملے گی، پولیس کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ جمیل کاکڑ اور دیگر نے قیام امن کیلئے جان کا نذرانہ پیش کیا بلکہ بلوچستان میں امن کے قیام کیلئے پولیس نے بڑی قربانیاں دے کر صوبے بھر میں امن وامان قائم کیا ہم انہیں سرخ سلام پیش کر تے ہیں بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کیلئے پولیس فورسز کو جدید سہولیات کے ساتھ ساتھ ایک منفرد نیا انداز فراہم کرنے جا رہے ہیں انہوں نے واضح کیا کہ پہلے اگر جرائم اور تخریب کاری کی روک تھام میں مشکلات پیش آتی تھی مگر اب بلوچستان پولیس کو جدید خطوط پر استوار کرتے ہوئے کرائم سین مینجمنٹ سمیت فارنزک سسٹم کو مزید اپ گریڈ کر دیا گیا ہے۔ بلوچستان کے تمام تھانوں میں ایف آئی آر، ٹرانسفر پوسٹنگ ڈیجیٹل سسٹم سمیت تمام ملازمین کا ریکارڈ کمپیوٹرائز سسٹم سے منسلک کر دیا گیا ہے جس کے ذریعے تما م عمل ودخل جدید ٹیکنا لوجی سے منسلک ہوچکا ہے جو کہ محکمے کی کارکردگی میں معاون او ر مدد گار ثابت ہوگا سیف سٹی پروجیکٹ سے امن و امان کی صورتحال میں مزید بہتری آئی گی اور جرائم کا خاتمہ ممکن ہو گا آئی جی پولیس نے کہا کہ بلوچستان پولیس کے تمام اہلکاروں کو ایک منفرد لائن پر تربیت دے رہے ہیں جس کے تحت وہ علاقے کے رسم و رواج کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے پولیسنگ کریں گے اور اسے ہم نے ایک نعرے سے منسوب کیا کہ بلوچستانیوں کو عزت دو کوئٹہ شہر میں ایک تسلسل سے پولیس کی چوکیوں میں بھی اضافہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے پولیس کو تمام وسائل فرائم کئے جارہے ہیں حکومت بلوچستان کے تعاون سے جلد بلوچستا ن پولیس کی تنخواہیں پنجاب پولیس کے برابرہوگی بلوچستان پولیس کم وسائل کے باوجودصوبے میں امن و امان کی بہتری اور جرائم پیشہ عناصر سمیت تخریب کاری کا قلع قمع کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کر رہی ہے پولیس نے کوئٹہ میں منشیات فروشوں ‘قبضہ مافیا اور اسلحہ کی نمائش کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاﺅن کیا جس کے حوصلہ افزاءنتائج برآمد ہوئے بلوچستان میں مثالی امن کے قیام کے لئے یکساں نظام کا ہونا ضروری ہے تاکہ لوگ سکھ کا سانس لے سکیں لیکن لیویز میں پولیس میں انضمام تاخیر کا شکار ہے۔


