بلوچ طلبا کو لاپتہ کرنا ریاستی پالیسی بن گئی، قوم کا ریاستی نظامِ انصاف سے یقین اٹھ چکا، بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل اسلام آباد

اسلام آباد (انتخاب نیوز) بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل اسلام کے زیر اہتمام انسانی حقوق کے عالمی دن کی مناسبت سے ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ احتجاجی ریلی کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ بلوچستان میں دہائیوں سے انسانی حقوق کی پامالی تسلسل کیساتھ کی جارہی ہے۔ جہاں بلوچ طلبا، سماجی کارکن، صحافی، اور دیگر افراد حتیٰ کہ خواتین اور بچے بھی اس شر سے محفوظ نہیں ہیں۔ بلوچ طلباءکو لاپتہ کرنا، انہیں مختلف ذرائع سے مسلسل ہراساں کرنا اب ایک واضح ریاستی پالیسی بن چکی ہے، ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ تعلیمی اداروں سے بلوچ طلباءکا جبری طور پر لاپتہ ہونا بدترین انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے اور ایسے واقعات اب بلوچستان کے تعلیمی اداروں میں روز کا معمول بن چکے ہیں۔ یکم نومبر 2021ءکو سہیل بلوچ اور فصیح بلوچ یونیورسٹی آف بلوچستان کے ہاسٹل کے احاطے سے جبری طور پر لاپتہ کیے گئے تھے، اور اب تک وہ منظرِ عام پر نہیں لائے گئے۔ فیروز بلوچ جو بارانی زرعی یونیورسٹی راولپنڈی کا طالبعلم ہے کو راولپنڈی میں بارانی زرعی یونیورسٹی کے احاطے سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔ 7 ماہ مکمل ہونے کے باوجود وہ تاحال بازیاب نہیں ہوسکے۔ سعود ناز بلوچ جو کہ ایک کمسن طالب علم ہے جنہیں 25 اکتوبر 2022ءکو جبری طور پر لاپتہ کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا۔ یاد رہے دو روز قبل کمپیوٹر سائنس کے طالب علم نور خان بلوچ کو کوئٹہ کے نواحی علاقے عیسیٰ نگری سے جبری طور پر لاپتہ کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا جن کی تا حال کوئی معلومات حاصل نہیں ہوسکی۔ بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ جاری ہے، جہاں بچے، بوڑھے، طلباءاور حتیٰ کہ خواتین بھی محفوظ نہیں۔ اگر ہم ماضی میں جھانکیں تو 2019ءکو بلوچستان کے علاقے ضلع آواران سے بلوچ ماﺅں اور بہنوں کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا، جنہیں بعد ازاں منظر ِعام پر لاکے رہا کیا گیا۔ رواں سال 27 اپریل کو ضلع پنجگور سے شاہ بی بی ولد سھراب کو ان کی بچیوں سمیت لاپتہ کیا گیا، جنہیں بعد ازاں بازیاب کیا گیا۔ درجنوں ایسے واقعات اس امر کی تصدیق کرتے ہیں کہ جبری طور پر گمشدہ افراد کے لواحقین کو احتجاج جیسے بنیادی حق اور انہیں مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے پرامن جدوجہد سے دستبردار کرنیکی کوششیں بھی کی جارہی ہیں، کراچی، کوئٹہ اور اسلام آباد سمیت پورے ملک میں لاپتہ افراد کے لواحقین کو احتجاجی مظاہروں میں تذلیل کرنا اور انہیں تشدد کا نشانہ بنانا، بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالی کا واضح ثبوت ہے۔ بلوچ طلباءکی جبری گمشدگی اور پروفائلنگ کو لیکر بلوچ طلباءنے انصاف کے تمام دروازوں پر دستک دی لیکن بدقسمتی سے ہمارے خدشات کو دور نہیں کیا جاسکا۔ بلوچ طلباءنے عدالت عالیہ سے رجوع کیا جہاں بلوچ طلباءکو جبراً لاپتہ کرنے اور انہیں ہراساں کرنے کیخلاف ایک عدالتی کمیشن کا قیام عمل میں لایا گیا لیکن بدقسمتی سے یہ کمیشن بھی ہمیشہ کی طرح بنائے گئے کمیشنز کی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے مایوسی کے سوا کچھ نہ دے سکا، بلکہ جب سے کمیشن کا قیام عمل میں لایا گیا ہے مزید بلوچ طلباءاور دیگر افراد کو جبری گمشدگی کا شکار بنایا دیا گیا۔ انصاف کے تمام دروازں پر دستک دینے کے باوجود شنوائی نہ ہونے سے بلوچ طلباءقوم کا ریاستی نظامِ انصاف سے یقین اٹھ چکا ہے، اب مزید عدلیہ اور کمیشنز کے دھوکے اور فریب کی جانب راغب نہیں ہوسکتے۔ 10 دسمبر انسانی حقوق کے عالمی دن کی مناسبت سے تمام عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ بلوچستان میں بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سختی سے نوٹس لیں اور بلوچ طلباءکی جبری گمشدگیوں کیخلاف اپنا موثر کردار ادا کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں