نوکنڈی کا رورل ہیلتھ سینٹر بنیادی سہولیات سے محروم، ڈاکٹروں کی عدم موجودگی، مریضوں کو مشکلات
نوکنڈی (انتخاب نیوز) ریکوڈک، سیندک، چکندک اور قدرتی معدنیات سے مالامال سرزمین تحصیل نوکنڈی کے وسائل سے ملکی وغیرملکی معیشتیں مضبوط ہوتی رہیں، اربوں ڈالرملکی وغیرملکی کما رہے ہیں مگر تحصیل نوکنڈی سرحدی شہر تفتان اورسیندک کا واحد ہیلتھ سینٹر جوکہ رورل ہیلتھ سینٹرکے نام سے جاناجاتاہے جسے سرکاری کاغذات میں ٹی ایچ کیو کا درجہ دینے کادعویٰ بھی سننے کوملی نوکنڈی کے عوام کو مگر حقائق شائد ہی کسی کو معلوم ہو معدنی زون میں قائم رورل ہیلتھ سنٹر میں گذشتہ پانچ سالوں سے کوئی ایم بی بی ایس ڈاکٹر نہیں لیڈی ڈاکٹرکاتوتصورکرناہی لوگوں نے چھوڑدیاہے ہسپتال میں قائم 80 دہائی کی بلڈنگ بھی خستہ حالی میں کسی بھوت بنگلہ کامنظرپیش کررہی ہے سوائے ایک ایمرجنسی سینٹرکے نام پر ایک عمارت جسے کسی این جی اونے تعمیرکیاتھا مگر یہ خوبصورت بلڈنگ صرف ایک بلڈنگ ہی ہے جہاں کوئی سہولت یاڈاکٹرنہیں ہسپتال میں نہ کوئی ایکسرے کی سہولت نہ ہی ضروری ٹیسٹ یہاں کئے جاسکتے ہیں 30 ہزار آبادی کے اس ہسپتال میں صرف ایک ڈسپنسر دو ایل ایچ ویزایک ویکسینیٹر اوردوتین دیگرنچھلے سطح کے ملازم چلاکراپنافرض منصبی سرانجام دے رہے ہیں ستم یہ ہے کہ محکمہ صحت نے گذشتہ بیس سالوں سے یہاں نئی آسامیاں نہیں دیئے گئے بلکہ سینکڑوں آسامیاں جب بھی محکمہ کو ملیں وہ منتخب عوامی نمائندوں کے ایماپرڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر میں سیاسی بنیادوں پر تقسیم کئے گئے اب بات کرتے ہیں ادویات کی گذشتہ چھ مہینوں سے تحصیل نوکنڈی ہسپتال کو دوائیاں نہیں ملی ہیں ہسپتال میں مریض توآتے ہیں مگر دوائی نہیں مل سکتی کیونکہ دوائی جب ہیں نہیں تو کہاں سے انھیں مل جائے ایمبولینس ایک ہی ہے جسکا ڈرائیور بھی کنٹریکٹ پر بھرتی ہواتھا شنید میں آیا ہے کہ اسے بھی بیماری کی وجہ سے ضلعی ہیلتھ آفیسرکی اس حکم عدولی کے زمرے میں نوکری سے فارغ کیاگیاکہ سرکاری ایمبولینس کو پرائیوٹ کمپنی ریکودک کے وزٹرزکے لئے بھیجناچاہ رہے تھے مختصر یہ کہ تفتان سیندک ودگرنواحی علاقوں اور نوکنڈی عوام کے لئے صحت کاکوئی بندوبست نہیں اور نہ ہی ڈاکٹرزموجود ہیں زچہ بچہ سینٹربرائے نام تو موجود ہیں مگر سہولیات کے حوالے سے زیرو ہے ارباب اقتدار اور محکمہ صحت سےشہروں کا مطالبہ ہے کہ تحصیل نوکنڈی آرایچ سی یا ٹی ایچ کیو میں فوری طور پر ڈاکٹرز کی تعیناتی عمل میں لائی جائے نئی بلڈنگ تعمیر کرکے تمام سہولیات سے آراستہ کی جائے ادویات کاکوٹہ موجودہ آبادی کی تناسب سے بڑھا کر ماہانہ ادوایات پہنچانے کو یقینی بنایاجائے ہسپتال میں عملے کی کمی کو پوراکرنے کے لئے پندرہ تابیس نئی آسامیاں مشتہرکرکے مقامی لوگوں کوترجیحی بنیادپرتعنیاتی عمل میں لائی جائے ایمبولینس ڈرائیور کی برطرفی کوختم کرکے فوری بحال کیاجائے اور ہسپتال میں مزید دوایمبولینسزدئے جائیں تاکہ کسی حادثہ کی صورت میں لوگوں کو پریشانی کاسامنا نہ کرنا پڑے اورسرکاری ایمبولینسزکوپرائیوٹ کمپنیوں کے لئے استعمال کرنے کی اجازت نہ دی جائے ہسپتال میں ایکسرے مشین ودیگرضروری ٹیسٹ کے اہتمام کرکے ٹیکنیکل پوسٹ پر تعیناتیاں عمل میں لائی جائیں۔


