بھتہ خوری، سیاسی مداخلت واسامیوں کی خرید وفرخت کیخلاف جدوجہد جاری رکھیں گے ، بی پی ایل اے

کوئٹہ (انتخاب نیوز)بلوچستان پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن کا ہنگامی اور توسیعی اجلاس صدر بی پی ایل اے پروفیسر طارق بلوچ کی صدارت میں ھوا جس میں مرکزی کابینہ ڈویژنل عھدے داروں سابق صدور سینئر پروفیسرز نے بڑی تعداد میں شرکت کی ۔اجلاس میں بی پی ایل اے کےکالج اساتذہ کے مسائل اور نظام تعلیم کی اصلاح کے لیے گزشتہ دنوں پریس کانفرنس اور احتجاجی مظاہرے کے بعد سکریٹری کالجز کی جانب سے بی پی ایل اے قیادت کے خلاف انتقامی تبادلوں کی شدید مذمت کی گئ، اسے بزدلانہ بوکھلاہٹ اور بدنیتی پر مبنی اقدام قراد دے کر بھر پور مذمت کی گئ۔اسے تنظیم پر حملہ قرار دیا گیا ۔اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ بی پی ایل اے قیادت ایسے انتقامی اقدامات سے ہرگز خائف نہیں ھوگی بلکہ جدوجہد میں مزید تیزی لائی جائے گی ۔احتجاج کو مزید وسعت دی جاے گی ۔پروفیسر برادری کے اجتماعی مفادات پر ہرگز کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاے گا۔سکریٹری کالجز کی جانب سے محکمانہ رولز کی خلاف ورزی محکمے میں ھونی والی بدعنوانی سفارش اقربا پروری کمیشن اور بھتہ خوری سیاسی مداخلت اسامیوں کی خرید وفرخت کے خلاف بی پی ایل اے کی اواز کوکسی صورت نہیں دبایا جاسکتا۔سکریٹری کی جانب سے غیر منطقی انتقامی تبادلوں بی پی ایل اے کے ساتھ منظور شدہ مطالبات کے منٹس پر عمل درامد نہ کرنے ایم فل پی ایچ ڈی سٹڈی لیو کی پالیسیاں نہ ھونے ٹائم سکیل پروموشن کے کیسز کے التوا پروموشن کیسز میں تاخیری حربوں ریموریشن کی عدم ادائیگی پروفیسر سٹڈی ٹور کے منظور شدہ رقم کی عدم فراہمی میڈیکل ٹی اے ڈی اے کے لئے اقدامات نہ کرنے کالجز میں بی ایس کی مد میں سہولیات فراھم نہ کرنے خالی اسامیوں پر تقرریان نہ کرنے اور انتظامی پوسٹوں پر غیرمنصفانہ اور میرٹ کے برخلاف تعیناتیوں پر بھرپور احتجاج جاری رکھے گی ۔اجلاس میں کالجز کے موجودہ بحران اور کالج اساتذہ کے مسائل کا ذمہ دار سکریٹری کالجز کو قرار دیا گیا جن کی عدم توجہی ناروا اقدامات نے کالجز کو تباہی کے دھانے پر لاکھڑا کیا ہے ۔اجلاس میں سکریٹری کالجز کی ھٹ دھرمی تعلیم دشمنی من مانی اور بد نیتی پر مبنی اقدامات کے خلاف بروز منگل 3 جنوری گیارہ بجے بی پی ایل اے کے زیر اھتمام سائنس کالج کوئٹہ سے ریلی نکالی جاے گی جو پرہس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کرے گی ۔اجلاس میں تمام کالج اساتذہ کو ھدایت کی گئی ہے کہ سموار سے کالجز دفاتر اور سٹاف رومز میں احتجاج ریکارڈ کرانے کے لئے بازوں پر سیاہ پٹیاں باندھے اور کالجز میں سیاہ جھنڈے لہراے ۔اور منگل کے احتجاج کے لئے بھرپور تیاری کرے ۔منگل کے احتجاج میں بھرپور شرکت کرے اور تمام کالج اساتذہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں شرکت کے لئے سوشل میڈیا اخبارات فیس بک پر بھرپور مہم چلاے ۔اجلاس میں سیاسی جماعتوں م پاکستان پیپلز پارٹی کے کورڈینیٹر پروفیسر اقبال کے صدر اور صدر جی ٹی اے حبیب الرحمان مردان زئی پاکستان پیرا میڈیکل ایسوسی ایشن کے صدر عبدالسلام زھری زرعی انجنیرز ایسوی ایسن کے صدر شکیل زہری نیشنل پروگرام کے حافظ حلیم شاہ صدر سیسا قاسم خان کاکڑاور دیگرملازمین تنظیموں سماجی تنظیموں کا شکریہ ادا کیا گیا اجلاس میں سیاسی جماعتوں سماجی تنظیموں ملازمین صحافیوں وکلا اور زندگی کے مختلف شعبوں سے وابستہ ممتاز شخصیات سے رابطوں کے لئے کمیٹیز تشکیل دی گئ ۔ان تمام پروفیسرز جنہوں نے بی پی ایل اے کی احتجاجی تحریک میں ساتھ دیا اور اظہار یکجہتی کا اظہار کیا۔اورسکریٹری کالجز کے بی پی ایل اے کی قیادت کے خلاف اقدامات کی مذمت کی ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں