کاروباری لین دین کا تنازع، انصاف کے حصول کیلئے کچلاک کے رہائشی متاثرہ افراد کی پریس کانفرنس
کوئٹہ (انتخاب نیوز) کچلاک کے رہائشی محمد یوسف نے کہا ہے کہ ہزارہ ٹاؤن کے رہائشی لینڈ مافیا نے 8کروڑ روپے مالیت کی گاڑیاں لیکر رقم دینے کیلئے گزشتہ 8ماہ سے حیلے بہانے کر رہے ہیں، ہم نے ہزارہ برادر سے تعلق رکھنے والی سیاسی جماعتوں سے بھی رابطہ کیا لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو، چیف سیکرٹری بلوچستان، وزیر داخلہ بلوچستان، اور آئی جی پولیس بلوچستان ہمیں انصاف دلائیں، بصورت دیگر ہم احتجاج کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر بصیر احمد و دیگر رہنماء بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا کاروباری لین دین ہزارہ برادری کے کچھ افراد جمعہ خان، پہلوان فیض اللہ سے ہے اور ہمارا گاڑیوں کا کاروبار تھا اور انہیں کئی گاڑیاں فراہم کیں جس پر انہوں نے نقد رقم کے بدلے زمین فراہم کی، ہم نے انہیں کہا جتنی رقم ہماری بنتی ہے اس کے مطابق زمین فراہم کریں اور وہ راضی ہوگئے تا حال زمین فراہم نہیں کی گئی اور یہ مافیا دھمکیوں پر اتر آئے اور چھے ماہ سے ہمیں مختلف زمینیں دکھارہے ہیں اور زمین کے انتقال اپنے نام کرنے کی بات کرتے ہیں تو وہ حیلے بہانے سے ٹال مٹول کررہے ہیں اور مختلف بہانے بناتے ہیں ہم نے کئی بار ہزارہ برادری کے سیاسی و قبائلی لوگوں، قوم پرست جماعتوں کے مرکزی رہنماؤں سے رابطے کئے لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی وہ حیلے بہانے بناکر ٹائم لیکر غائب ہوجاتے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایچ ڈی پی کے مرکزی رہنما ان کی سرپرستی کررہے ہیں، ان سے رابطہ کیا تو کوئی جواب نہیں مل رہا تھا، بعد میں جن سے ہمارا کاروبار تھا انہوں نے مذکورہ سیاسی جماعت کے رہنماسے رابطہ کیا اور انہوں نے ہمیں یقین دہانی کرائی کہ ہم پیسے دیں گے تا حال پیسے نہیں دیے گئے ہم قبضہ مافیا سے اپنی زمین کی فراہمی کا مطالبہ کرتے ہیں تو ہمیں دھمکیاں دیتے ہیں۔ مذکورہ لوگ ہمیں چھے ماہ سے ٹرخا رہے ہیں جو چیک دیتے ہیں اسے کیش کرنے کے لئے بینک جاتے ہیں تو وہ چیک اکاؤنٹ میں کیش نہ ہونے کی وجہ سے بونس ہوجاتا ہے، ہمارے ساتھ فراڈ کیا جارہا ہے۔ حکام اس پر نوٹس لیتے ہوئے ہمیں انصاف فراہم کریں۔


