پاکستان کے ساتھ بارٹر ٹریڈ معاہدے کو جلد عملی جامعہ پہنانا چاہتے ہیں، ڈپٹی گورنر سیستان بلوچستان

کوئٹہ (انتخاب نیوز) ایران کے صوبہ سیستان بلوچستان کے ڈپٹی گورنر داد شہرکی نے کہا ہے کہ ایران پاکستان کے ساتھ مقررہ تجارتی اہداف کے حصول کیلئے ہمہ وقت کوشاں ہے۔ اس سلسلے میں دونوں برادر اسلامی ممالک کی صنعت و تجارت سے وابستہ افراد کا کردار کلیدی اہمیت کا حامل ہے، دوطرفہ تجارت کی راہ میں حائل رکاوٹیں باہمی تعاون کے ذریعے ختم کریں گے، پاکستان کے ساتھ مزید باڈر مارکیٹس کی بحالی کے لیے تیار ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایوان صنعت و تجارت کوئٹہ بلوچستان میں پاک ایران جوائنٹ بارڈر ٹریڈ کمیٹی کے دسویں اجلاس کے ابتدائی سیشن سے اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔ دسویں بارڈر ٹریڈ کمیٹی اجلاس میں پاکستانی وفد کی سربراہی چیف کلکٹر کسٹم بلوچستان عبدالقادر میمن جبکہ ایرانی وفد کی سربراہی سیستان بلوچستان کے ڈپٹی گورنر داد شہرکی نے کی۔ اجلاس میں کوئٹہ میں متعین ایرانی قونصل جنرل حسن درویش وند چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کوئٹہ بلوچستان کے صدر حاجی عبداللہ اچکزئی، سینئر نائب صدر حاجی آغا گل خلجی، نائب صدر سید عبدالاحد آغا، زاہدان چیمبر آف کامرس کے صدر عبدالحکیم ریکی، دونوں ممالک مختلف محکموں کے اعلیٰ حکام و دیگر شریک ہیں۔ دو روزہ اجلاس کے پہلے روز ابتدائی سیشن سے اظہار خیال کرتے ہوئے چیف کلکٹر کسٹم بلوچستان عبدالقادر میمن نے ایرانی وفد کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں دونوں ممالک کے مابین مقرر کردہ تجارتی اہداف کے حصول کیلئے ضروری ہے کہ دوطرفہ تجارت کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ بارٹر ٹریڈ معاہدے پر عمل درآمد وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کورونا کے عالمی وبا کے بعد دنیا بھر کے ممالک کو معاشی بدحالی کا چیلنج درپیش ہے، اس چیلنج سے نمٹنے اور اقتصادی ترقی کیلئے دوطرفہ باہمی تعاون ضروری ہے، ہمیں 2006ء میں کیے گئے معاہدے پر مکمل طور پرعمل درآمد کرنا ہوگا انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک ورلڈ کسٹم کنونشن کے ممبران ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج سے شروع ہونے والے دو روزہ اجلاس کے بھی مثبت نتائج نکلیں گے اور اس سے دوطرفہ تجارت کی راہ میں حائل رکاوٹیں ختم ہونے میں مدد ملے گی۔ اجلاس کے ابتدائی سیشن سے خطاب میں سیستان بلوچستان کے ڈپٹی گورنر داد شہرکی نے کہا کہ جوائنٹ بارڈر ٹریڈ کمیٹی کے اجلاسوں پر دونوں ممالک کے حکام کے مابین 2010ء میں اتفاق کرلیا گیا تھا، ہم چاہتے ہیں کہ دونوں برادر اسلامی ممالک کے مابین مقررہ تجارتی اہداف کے حصول کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کے ساتھ مزید بارڈر مارکیٹس کے قیام اور بحالی کیلئے تیار ہیں، اس وقت ایران کے مختلف بارڈر پر قائم مارکیٹس میں سے 50 فیصد پاکستان کے ساتھ ملتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کے ساتھ کیے گئے بارٹر ٹریڈ معاہدے کو جلد عملی جامعہ پہنانا چاہتے ہیں۔ اجلاس کے شرکا سے اظہار خیال کرتے ہوئے ایوان صنعت و تجارت کوئٹہ بلوچستان کے صدر حاجی عبداللہ اچکزئی نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے صنعت و تجارت سے وابستہ افراد کوئٹہ زاہدان تک براہ راست فلائٹس کا اجرا چاہتے ہیں ہم آزاد دو طرفہ تجارت کے خواہاں ہیں اور چاہتے ہیں کہ دونوں ممالک کے مابین برابری کی بنیاد پر تجارت ہو۔انہوں نے کہا کہ ہم دونوں ممالک کے کاروباری حجم میں مزید اضافہ کے خواہاں ہیں انہوں نے کہا کہ چیمبر آف کامرس روز اول سے ہی قانونی تجارت کا فروغ چاہتی ہے ایران مجوز کی شرط پر نظر ثانی کرے ہم چاہتے ہیں کہ تفتان بارڈر پر بزنس کمیونٹی کیلئے الگ گیٹ ہو تاکہ تجارت سے وابستہ افراد کو آمد و رفت میں مشکلات درپیش نہ ہو۔اجلاس کے دوران نویں جوائنٹ بارڈر ٹریڈ کمیٹی کی نکات کا بھی جائزہ لیا گیا اور مختلف امور پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا اجلاس کے پہلے روز وفود میں یادگاری شیلڈز کا بھی تبادلہ ہوا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں