معروف قانون دان لالا لطیف آفریدی فائرنگ سے جاں بحق اور قاتل گرفتار
پشاور(انتخاب نیوز)عبدالطیف آفریدی پشاور ہائی کورٹ کے بار روم میں موجود تھے کہ اچانک ان پر نامعلوم افراد نے فائرنگ شروع کر دی، معروف قانون دان کو 6 گولیاں لگیں جن کی وجہ سے وہ شدید زخمی ہو گئے۔تشویشناک حالت کی وجہ سے عبدالطیف آفریدی کو لیڈی ریڈنگ ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ جانبر نہ ہو سکے، پولیس نے فائرنگ کرنے والے ملزم کو گرفتار کر لیا، واضح رہے کہ عبدالطیف افریدی سپریم کورٹ بار کے صدر بھی رہ چکے ہیں۔کوئٹہ بار ایسوسی ایشن کے صدر ملک عابد کاکڑ ایڈووکیٹ۔ جنرل سیکرٹری چنگیز حئی بلوچ ایڈووکیٹ۔ نائب صدر کوئٹہ محمد عباس کاکڑ ایڈووکیٹ، نائب صدر سریاب جہانزیب مری ایڈووکیٹ۔نائب صدر کچلاک سید نصیب اللہ آغا ایڈووکیٹ، جوائنٹ سیکریٹری ملک احمد بلال کاکڑ ایڈووکیٹ، فنانس سیکریٹری عبداللہ شیرانی ایڈووکیٹ، اور لائبریری سیکرٹری اسداللہ اچکزئی نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں مزمت کرتے ہو کہا ہیکہ پشاور ہائی کورٹ میں ممتاز قانون دان سینئر بزرگ سیاستدان محکوم اقوام کی توانا آواز اور مظلوم عوام کے لیئے ہمیشہ جدوجہد کرنے والا لالا لطیف آفریدی کی شہادت کاافسوس ناک واقعہ ہوا ہے جن کی ہم شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔اور تین دن کوئیٹہ بار ایسوسی ایشن سوگ اور عدالتوں کا بائیکاٹ کرتے ہیں۔سوالیہ نشان ضرور یہ ہے کورٹ کے اندر اسلحہ کا لانا اور اس کو استعمال ہونا یہ بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔اس طرحکے واقعات کی روک تھام کیلئے پہلے ایکشن نہیں لیا گیا۔ اگر ایکشن لیا جاتا تو مزید ایسے واقعات رونما نہیں ہوتے۔حکومت وقت ایسے واقعات ایسے نمٹنے کیلئے سنجیدہ اقدامات کرے ملک میں آئے روز دہشتگردی کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔


