بلوچستان میں مقدمات کے بجائے ادھر ہی پھانسی دے دیں تا کہ فیملی کو لاش لینے میں آسانی ہو، شہباز گل
کوئٹہ (آن لائن ) تحریک انصاف کے رہنماءشہباز گل نے کہا ہے کہ مجھے بتاو¿ میں کہاں سے غدار ہوں؟ میرا قصور ہے کہ میں لوئر مڈل کلاس سے اٹھا اور پھر امریکہ میں اپنا مستقبل چھوڑ کر پاکستان کی خدمت کے لیے واپس آیا لیکن مجھ پر وہ دفعات لگائی گئیں ہیں جن کی سزا موت اور عمر قید ہے، مجھے مارا گیا پھر بھی میں نے گلہ نہیں کیا کیوں کہ قمیص اٹھاوں گا تو اپنا پیٹ ننگا ہوگا، مجھ پر دو درجن غداری کے مقدمات ہیں کسی ظالم نے آکرپوچھا بھی نہیں، میں عدالت سے سزائے موت ہی مانگوں گا، مجھ پر دو درجن غداری کے مقدمے ہیں، کوئی پوچھ بھی نہیں رہا کہ شہباز گل مقابلہ کرلو گے؟ جان چھڑاو¿ اور مجھے بس سزائے موت دے دو، میں عدالت سے کہوں گا مجھے پھانسی دو،انہوں نے چیف جسٹس عمر عطا بندیال سے 124A ختم کروانے کا مطالبہ کر دیا۔ تفصیل کے مطابق ڈاکٹر شہباز گل گزشتہ روز پریس کانفرنس میں جذباتی ہوگئے، انہوں نے کہا کہ عمران خان سے ملاقات ہوئی اور انہوں نے مجھے دعوت دی کہ پاکستان کے لیے نہایت ضروری ہے کہ پڑھے لکھے اور مڈل کلاس لوگ سیاست میں آئیں میں سب کچھ چھوڑ کر نیا پاکستان بنانے کا خواب لے کر آیا، مجھ پر کرپشن کا ایک بھی کیس نہیں ہے، کچھ لوگ پھیلا رہے ہیں کہ میں پی ٹی آئی چھوڑ دوں گا، اس کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیوں کہ میں پاکستان اور عمران خان کے لیے سب کچھ چھوڑ کر آیا ہوں، لیکن اب کوئی اوورسیز پاکستانی آیا تو میں اسے کہوں گا واپس نہ آئے۔انہوں نے کہا کہ مجھے نیچا دکھانے کے لیے جیل میں میری تصویریں لیک کی گئیں، مقدمات درج کروانا چاہتے ہیں تو کھل کر کریں، لیکن اگر میرے دادا کو یہ پتہ ہوتا کہ میرا پوتا ساری محنت کر کے ہر جگہ پہنچے گا پھر اسے ننگا کر کے مارا جائے گا تو شاید وہ دوبارہ سوچتے کہ میں نے پاکستان جانا تھا کہ نہیں۔


