میری لیڈر مریم نواز نہیں نواز شریف ہیں، شاہد خاقان عباسی
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان مسلم لیگ کے سینئر رہنما اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ میں وقت آنے پر آئندہ الیکشن لڑنے کا فیصلہ کروں گا، اگر میں نے الیکشن لڑا تومسلم لیگ(ن)کے ٹکٹ پر لڑوں گااوراگر مسلم لیگ (ن)کا ٹکٹ نہ ملا توپھر میں الیکشن ہی نہیں لڑوں گا۔ میں مسلم لیگ (ن)کے ساتھ ہوں، میں اسی جماعت کے ساتھ پہلے دن سے ہوںاورشاید آج جماعت کے پرانے ترین لوگوں میں سے ہوں، اللہ کا کرم ہے، بہت سے مراحل بھی آئے لیکن میں جماعت کے ساتھ ہی رہا، اس جماعت سے اپنے گھر ہی جاسکتے ہیں، کوئی اورگھر ہمارا ہے نہیں۔ میرے لیڈر نوازشریف ہیں اورپارٹی کے صدر شہبازشریف ہیں، مریم نوازمیری لیڈر نہیں اور نہ ہی مریم نواز کا دعویٰ ہے کہ وہ پارٹی کی لیڈرہیں۔اگر مریم نواز کل پارٹی کی صدارت کی پوزیشن پر آتی ہیں تو پھر میرا فیصلہ ہو گا کہ میں جماعت میں آگے چل سکتا ہوں یا نہیں چل سکتا اورسیاست کرنی ہے یا نہیں کرنی اور میری سیاست مسلم لیگ (ن)کے اندر ہی ہے۔ مفتاح اسماعیل کے اسحاق ڈار سے کوئی اختلافات نہیں، ملک کی معیشت کو چلانے پر اختلاف رائے ہے اور یہ مثبت بات ہوتی ہے۔ ان خیالات کااظہار شاہد خاقان عباسی نے ایک نجی ٹی وی سے انٹرویو میں کیا۔ شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ میں 1988سے سے مسلم لیگ (ن)میں ہوں اور2019تک میرے پاس پارٹی کا کوئی عہدہ نہیں تھااوریہ31سال کا عرصہ بنتا ہے، 2019 میں جب میاں شہبازشریف گرفتار ہو ئے تو مجھے کہا گیا کہ آپ (ن)لیگ کے سینئر نائب صدر کاعہدہ لے لیں میں نے کہا تومجھے کہا گیا کہ آپ کے پاس یہ عہدہ ہونا ضروری ہے،مریم نوازشریف کو چیف آرگنائزر بنایا گیا تومیں نے اسی دن پارٹی کے صدر کو اپنا استعفیٰ بھجوادیا تھاکہ میں اس عہدے پر نہیں رہ سکتاکیونکہ مریم بی بی آئی ہیں ان کو فری ہینڈملنا چاہیے،وہ کام کریں ، وگرنہ ہم جو میاں محمد نواز شریف کے جو ساتھی ہیں وہ وہاں پر ہوں گے تو ہر معا ملہ میں ابہام پیدا ہوتا ہے۔ اختلاف ہوتا ہے، اختلاف رائے اختلاف میں بدل جاتا ہے اور بدمزگی ہوجاتی ہے،ہم نے یہ معاملہ دیکھا ہوا ہے۔ جب بینظیر بھٹوآئی تھیں تو جو ان کے والد کے دوست تھے جن کو انکلز کہتی تھیں ان کی وجہ سے ان کی پہلی حکومت چل ہی نہیں پائی تھی۔میں جیسے پہلے پارٹی کے ساتھ تھا ویسے ہی اب بھی ساتھ ہوں۔ نوازشریف سے ہمارا پرانارشتہ 30،35سال پر محیط ہے اور اگر کسی معاملہ پر مشاورت کریں تومیں اپنی رائے کا ضروراظہارکرتا ہوں، اس کے بعد وہ فیصلہ کرلیتے ہیں اور جو وہ فیصلہ کرتے ہیں وہ میرابھی فیصلہ بن جاتا ہے۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ میاں محمد نوازشریف سے ہمارا پرانا رشتہ ہے وہ ہمارے بزرگ ہیں، دوست بھی ہیں اور لیڈر بھی ہیں۔ مریم نوازشریف سے ہمارا وہ رشتہ نہیں ہو سکتا جو ہمارا نوازشریف سے ہے، نوازشریف کی بیٹی ہونے کے ناطے ہم مریم نوازکے چچا لگے جو کہ وہی انکل والی بات آجاتی ہے، اس میں کوئی ناراضگی نہیں، کوئی تحفظات نہیں ہیں، یہ پارٹی کے اندر ایک جنریشنل چینج ہے، فیصلہ سازی میں میں حصہ نہیں لے سکتا، میں مسلم لیگ (ن)کے ساتھ ہوں، میں اسی جماعت کے ساتھ پہلے دن سے ہوںاورشاید آج جماعت کے پرانے ترین لوگوں میں سے ہوں، اللہ کا کرم ہے، بہت سے مراحل بھی آئے لیکن میں جماعت کے ساتھ ہی رہا، اس جماعت سے اپنے گھر ہی جاسکتے ہیں، کوئی اورگھر ہمارا ہے نہیں۔انہوں نے کہا کہ چوہدری نثار علی خان کو پارٹی سے کچھ شکایات ہیں تاہم میری کوئی شکایت نہیں اور نہ کوئی تحفظات ہیں اور میںآج بھی جماعت کے لئے24گھنٹے پہلے سے زیادہ حاضر ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ میں پارٹی سے راہیں جد اکررہا ہوں، میں نے پہلے کہہ دیا ہے کہ میں جماعت کے ساتھ ہوں، جو جماعت ذمہ داری دے گی اس پر کام کرنے کو تیار ہوں، میں آج بھی کررہا ہوں، میں حکومت کے بہت سے وزراء سے شاید زیادہ محنت کرتا ہوں، جو بھی وزیر اعظم مجھے ذمہ داری دیتے ہیں میں وہ کام کرتا ہوں۔ شاہد خاقان عباسی کاملک کی معیشت جس حالت میں پہنچ گئی اس کو ٹھیک کرنے اورمستحکم کرنے اوراس جگہ لے جانے میں جہاںہم نے 31مئی2018کو چھوڑی تھی کم ازکم پانچ سے سات سال لگیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب ہم آئی ایم ایف کے پاس جاتے ہیں تووہ کوئی اضافی بوجھ نہیں ڈالتا بلکہ وہ کہتا ہے کہ آپ کوئی چیز بھی قیمت خرید سے کم پر نہیں بیچیں گے، بجلی ،گیس اوردیگر اشیاء کو کم ازکم قیمت خرید پر بیچیں گے،حکومتی اخراجات کو کنٹرول میں لائیں گے اورایک ذمہ دار ملک ہونے کا ثبوت دیں گے۔ ملک کی آمد ن اوراخراجات کے حالات یہ ہیں کہ وفاقی حکومت کی صوبوں کو پیسے دینے کے بعد کل آمدن سود کے اخراجات پورے نہیں کرتی، آپ حکومت ، دفاع اور ترقیاتی اخراجات اضافی قرضہ لے کر پوراکرتے ہیں، جب اضافی قرضہ لیتے ہیں توسود اور بڑھ جاتا ہے اور اگلے سال سود کے پیسے دینے کے لئے بھی پورے پیسے نہیں ہوں گے۔ یہ ایک شیطانی چکر ہے جس کوتوڑنے کی ضرورت ہے، اس کو توڑنے کے لئے مشکل فیصلے کی ضرورت ہے، مشکل فیصلہ کون ساہوتا ہے جس کا بوجھ عوام پر پڑتا ہے۔ سبسیڈیزآپ دیں گے اگر آپ کے پاس پیسے ہوں لیکن قرضہ لے کر سبسڈیزنہیں دی جاتیں، قرضہ لے کرآپ سبسڈی نہیں دے سکتے۔ پاکستان میں صرف پارلیمانی نظام چلے گا ، ہمارا پارلیمانی نظام کے علاوہ کسی بھی نظام میں ٹوٹ جائے گا۔ اگر پارلیمانی نظام کو چلنے دیں تو تین الیکشنز میں ملکی نظام درست ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ میری ذاتی رائے کہ تمام ڈویژنز کو صوبے بنادیں۔ میاںنواز شریف سے آخری ملاقات 22نومبر 2022کو ہوئی تھی،نوازشریف کا پاکستان واپس آنے کا باالکل ارادہ ہے،ان کو الیکشن سے پہلے آنا چاہیے، ان کی بیماری کا ایک بڑاسنجیدہ معاملہ ہے اور وطن واپسی کا فیصلہ وہ خود کریں گے۔ نوازشریف عدالت کی اجازت سے باہر گئے اورعدالت نے انہیںمفرورقراردے دیا ہے ، وہ جب واپس آئیں گے توخود کو عدالت کے حوالے کردیںگے اورپھر عدالت سے انصاف کی توقع رکھیں گے ، جو مجھے توقع نہیں ہے کہ انصاف ملے گا، ابھی تک تونوازشریف کو انصاف نہیںملا۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ عمران خان کے اپنے فیصلے ہیں وہ روزانہ اپنے خلاف ایک نئی سازش ڈھونڈتے ہیں، ان کو اقتدار کی ہوس ہے، آپ انہیں اقتداردے دیں سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا۔ عمران خان کو اقتدارکے جانے کا بڑا غم اوردکھ ہے، اگر عمران خان کو اقتدارکبھی مل گیا توآگے بھی وہی کریں گے جو انہوں نے پہلے ساڑھے تین سال کیا۔اگر عمران خان کے لئے انصاف کا وہی پیمانہ رکھیں گے جو نواز شریف کے لئے استعمال کیا ہے توپھر عمران خان 10ہزارسال کے لئے اندر ہو جائیں گے یا کم ازکم ناہل ہوجائیں گے۔ نوازشریف کا یہی قصور تھا کہ اپنے بیٹے کی کمپنی سے 10ہزاردرہم نہیں لئے، عمران خان خود امریکہ میںکمپنیوں کے چیئرمین ہیں ، اربوں روپے امریکن کمپنیوں اورشہریوں سے لیا ہے ، اس کو ڈیکلیئر نہیں کیا، کچھ پیسہ پاکستان بھیجا ہے کچھ نہیں بھیجا، اوریہاں جو پیسہ آیا وہ بھی غائب ہو گیا۔


