سفید فام بلادستی کی تحریکیں دن بدن خطرناک ہوتی جارہی ہے ، اقوام متحدہ

نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک ) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے تخریب کاری کو ’انسانیت کی توہین‘ قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اس کے خلاف ہتھیار نہ ڈالیں۔انہوں نے یہ ریمارکس ’پرتشدد انتہا پسندی کی روک تھام‘ کے پہلے عالمی دن کے موقع پر دئیے۔ اقوام متحدہ سیکرٹری جنرل نے تخریب کاری کو انسانیت کی توہین قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ان اقدار کو مجروح کرتی ہے جو ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ جوڑتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ تخریب کاری سے امن و سلامتی کے فروغ، انسانی حقوق کے تحفظ، انسانیت کو امداد کی فراہمی اور پائیدار ترقی کے فروغ کے لیے اجتماعی کوششوں کو بھی خطرہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہمیں پہلے سے زیادہ چوکنا رہنے کی ضرورت ہے، تخریب کار اور متشدد انتہا پسند گروہ انٹرنیٹ پر اپنے زہر کو پھیلانے کے لیے زرخیز زمین تلاش کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نیو نازی، سفید فام بالادستی کی تحریکیں دن بدن زیادہ خطرناک ہوتی جا رہی ہیں اور اب یہ کئی ممالک میں داخلی سلامتی کے لیے سب سے بڑے خطرے کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ تمام ممالک کو اس چیلنج کی روک تھام کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے اور ان تمام حالات سے نمٹنا چاہیے جو تخریب کاری کا سبب بنتے ہیں۔انہوں نے اقلیتوں، خواتین اور نوجوانوں کے حقوق کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق کو انسداد تخریب کاری تمام پالیسیوں کا محور ہونی چاہیے۔ سیکرٹری جنرل نے کہا کہ آج اور اس کے بعد ہر دن ہم ایسے پرامن، جامع اور مستحکم معاشرے کی تعمیر کے لیے مل کر کام کریں گے جس میں تخریب کاری اور پرتشدد انتہا پسندی کے لیے کوئی جگہ نہ ہو۔ دسمبر میں منظور ہونے والی ایک قرارداد میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 12 فروری کو پرتشدد انتہا پسندی کی روک تھام کا عالمی دن قرار دینے کا فیصلہ کیا تھا تاکہ پرتشدد انتہا پسندی سے منسلک خطرات کے بارے میں آگاہی پیدا کی جا سکے۔قرارداد میں اس بات کی تصدیق کی گئی کہ تخریب کاری اور پرتشدد انتہا پسندی کا کسی مذہب، قومیت، تہذیب یا نسلی گروہ سے تعلق نہیں ہو سکتا اور نہ ہی ہونا چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں