چیئر مین پبلک اکاﺅنٹ کمیٹی کا ضمنی بجٹ کی حمایت کرنے سے انکار
اسلام آباد : قومی اسمبلی کے اجلاس میں چیئرمین پبلک اکاو¿نٹس کمیٹی نور عالم خان نے ضمنی مالیاتی بل کی شدید مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں کبھی بھی اس ظالمانہ بل کی حمایت میں ووٹ نہیں دوں گا خواہ اس کے لیے مجھے ایسی دس سیٹیں قربان کرنا پڑیں قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کی سربراہی میں منعقد ہوا اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے نور عالم خان نے کہا کہ پاکستان کی تقدیر میں وزراءخزانہ جب مہنگائی کرنی ہوتی ہے تو اسمبلی میں آتے ہیں ان کو اسمبلی کے ممبران یاد آ جاتے ہیں آج تک غریب عوام کا فائدہ ہوتے نہیں دیکھا ایک وزیر خزانہ نے اپنا ذاتی بینک کھول لیا ہے نور عالم خان نے کہا کہ آج آٹے کا تھیلا 37 سو روپے بلوچستان میں مل رہا ہے چینی 100 روپے ،یوریا کی بوری 37 سو روپے ،ڈی اے پی 13 ہزار روپے میں مل رہی ہے دوائیاں 170 فی صد مہنگی ہو گئی ہیں گزشتہ حکومت میں نے بات کی تو اس وقت کے لوگوں کو اچھی نہیں لگی اور آج بھی اچھی نہیں لگے گی افسران کو 13 سو یونٹ بجلی فری میں دیتے ہیں اور غریبوں سے بل وصول کر رہے ہیں فری بجلی ختم کی جائے ،گرمی میں عوام مر رہی ہوتی ہے لیکن افسران اے سی کے ٹھنڈے کمروں میں بیٹھے ہوتے ہیں تین سو کنال والے اور بڑے گھروں والوں کو پکڑیں ،کارخانوں سے رشوت کون لیتا ہے پاکستان میں صرف ٹیکس لیتے ہیں لیکن سہولیات نہیں دی جاتیں ،غریب کا سوچنا ہو گا ان پر ٹیکس مت لگائیں بجلی مہنگی کرنا زیادتی ہو گی پاکستان کی عوام ٹیکس دیتے ہیں ٹیکس جمع کرنے والے چور ہیں ایف بی آر والوں کو لگام ڈالیں،کون سے قانون کے تحت ڈالر مافیا کے ساتھ معاہدہ کیا گیا ،بلوچستان میں آٹا اور یوریا کیسے جاتا ہے،عمرانی معاہدہ یا ڈار والا اس کو ایوان میں آنا چاہیے جس چیز کی لے ہم نے ہیٹ پر پتھر باندھے ہیں ایسا نہ ہو کل اس کا سودا ہو جائے ،ایک لیڈر کی سیکورٹی پر 470 اہلکار لگائے گئے ہیں کیا اس کی سیکورٹی کے پیسے غریب عوام نے دینے ہیں میں ایسے بل کا کبھی بھی حصہ نہیں بنوں گا خواہ ایسی دس سیٹیں قربان کرنی پڑیں۔


