محکمہ فشریز ماہی گیروں کی شکایت پر غیر قانونی ٹرالرز کیخلاف فوری کارروائی کرے گا

کوئٹہ : ضلع گوادر اپنی خوبصورتی اور ساحل سمندر کے پر کشش مناظر کی بدولت دنیابھر میں بہت مشہور ہے۔ مگر اس وقت گوادر شہر کی اہمیت کی سب سی بڑی وجہ اس شہر میں بین الاقوامی معیار کا ڈی سی پورٹ ہے جس پر اس وقت دنیا بھر کی نظریں مرکوز ہیں۔جبکہ تاریخی طور پر دیکھا جائے تو گوادر کی پہچان وہاں کے وہ ماہی گیر ہیں جو ہزاروں سالوں سے وہاں رہائش پزیر ہیں اور انکا ذریعہ معاش سمندر سے وابستہ ہے۔مگر گزشتہ چند سالوں سے ماہیگیروں کو درپیش ایک اہم مسئلہ غیر قانونی ٹرالرنگ کی شکل میں درپیش رہا ہے جس کی وجہ سے انکا ذریعہ معاش متاثر رہتا تھا دراصل، ٹرالرز مافیا ساحل سمندر میں جھال استعمال کرتے ہیں اس سے ناصرف ماہیگیروں کاروزگار شدید متاثر ہوجاتاہے بلکہ ان سے ساحل سمندر میں بعض مچھلیوں کے نایاب ہونے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔ اس غیر قانونی ٹرالرنگ کے مسئلے پر ناصرف ماہیگیر انجمنیں اور تحریک وقتاً فوقتاً جدوجہد کرتے آ رہے ہیں بلکہ سیاسی جماعتوں کی جانب بھی اس اہم مسئلے پر وقتاً فوقتاً احتجاج سامنے آتے رہتے ہیں۔دراصل غیر قانونی ٹرالنگ کے شعبہ کو بین الاقوامی طور پر ایک مضبوط مافیا کی پشت پناہی حاصل ہے جسے مکمل طورپر ختم کرانا انتہائی مشکل ہے کیونکہ یہ ٹرالر پاکستانی حدود میں داخل ہوکر غیر قانونی طور پر مچھلیوں کا شکار کرکے واپس پاکستان کے حدود کے باہر جاکر محفوظ مقامات پر منتقل ہوجاتے ہیں۔ماضی میں کسی بھی حکومت نے اس مسئلہ کو حل کرنے کیلئے سنجیدہ کوشش نہیں کی مگر حالیہ برسوں میں صوبائی حکومت کی جانب سے ماہی گیروں کے ا س دیرینہ مسئلہ کے حل کے لیے انتہائی سنجیدہ اقدامات اٹھانا شروع کر دیے ہیں جس کی وجہ سے مائیگیروں اور حکومت کے درمیان اعتماد میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔غیر قانونی ٹرالنگ کا مسئلہ اس مختصر عرصے میں ابھی تک مکمل طور پر حل تو نہیں ہوا ہے مگر موجودہ حکومت کی جانب سے اقدامات کے نتیجے میں ماضی کی بنسبت اس کے حل میں کافی پیشررفت دکھائی دے رہی ہے اور غیر قانونی ٹرالنگ میں کافی حد تک کمی دکھائی دیتی ہے اور اسکا سہرا یقینا وزیر اعلیٰ عبدالقدوس بزنجو کی سربراہی میں میں موجودہ حکومت کے سرجاتاہے جنہوں نے وزارت اعلی کا منصب سنبھالنے کے بعد محکمہ فشریز کے اعلی افسروں کا تبادلہ کرکے محکمے میں متحرک افیسران تعینات کرکے ساحل سمندر کو ٹرالرز سے پاک کرنے کے عزم کا اظہار کرلیا ہے اور ماہی گیروں کے روزگار کا ہرصورت تحفظ کرنے کیلئے فوری اقدامات اٹھانا شروع کردئیے ہیں۔ وزیر اعلی بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو کی جانب سے وزارت اعلی کا منصب سنبھالنے کے بعد اب تک ساحل سمندرسے ٹرالرنگ میں مصروف سینکڑوں غیر قانونی ٹرالرز کو گرفتار کرکے ساحل سمندرکو ٹرالرنگ سے پاک کرنے کے اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں اور اس حوالے سے ماہیگیروں کو غیر قانونی ٹرالنگ کے بچاؤ کے لیے تحفظ بھی فراہم کیا جارہا ہے۔محکمہ فشریز اس وقت پورے ضلع گوادر میں فعال کردار ادا کررہاہے اور ساحل سمندر میں گشت کررہاہے جبکہ ٹرالرز مافیا بھی گرفتاری کے حکم سے پریشان ہیں اور سمندر کا رخ بہت کم حدتک کررہے ہیں محکمہ فشریز نے گشت بھی بڑھالیاہے۔ جبکہ حال ہی میں غیر قانونی ٹرالنگ کے خاتمہ کیلئے سرکار نے ایک مانیٹرنگ سیل کابھی قیام کیاہے جہاں ماہی گیروں کی شکایت پر فوراً فورس بھیجی جائیگی اور غیر قانونی ٹرالرز کیخلاف فوری کاروائیاں کی جائیں گی اور اس میں محکمہ فشریز کے علاوہ دیگر فورسز بھی حصہ لیں گے جو انتہائی احسن اقدام ہے۔ اب تک ساحل سمندر سے کئی ٹرالرز کو گرفتار کرلیاگیاہے جبکہ ٹرالرنگ کیخلاف کاروائیوں کے بعد اور ٹرالرز کو ضبط کرنے کے بعد ساحل سمندر میں نایاب اقسام کی مچھلیاں کئی سال بعد دوبارہ ظاہر ہونا شروع ہوگئے ہیں جس پر ماہی گیروں کاروزگار اور معاشی حالت ناصرف ماضی کی بنسبت بہتری کی جانب گامزن ہے بلکہ ماہی گیر جو ماضی میں اس شعبہ سے دلبرداشتہ ہوئے تھے اب دوبارہ ماہی گیری کے شعبے کی طرف آ رہے ہیں جو انتہائی خوشی کا باعث ہے، موجودہ حکومت اور بالخصوص وزیر اعلی بلوچستان کا وژن ہے کہ وہ ماہی گیروں کے روزگار کا ہر صورت تحفظ کریں گے اور ساحل سمندر کو غیر قانونی ٹرالروں کے حوالے نہیں کرنے دیں گے۔ ماہی گیروں کے روزگار کے تحفظ کے ساتھ ساتھ ماہیگیروں کو دیگر بنیادی سہولیات دینے کیلئے بھی موجودہ وزیر اعلی بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو اقدامات اٹھا رہے ہیں اور وہ گوادر کی ترقی میں مقامی ماہیگیروں کے روزگار کاہرصورت تحفظ کریں گے اور مقامی آبادی کے خواہشات کا بھرپور خیال رکھیں گے۔ اس حوالے سے گزشتہ دنوں ڈائریکٹر جنرل فشریز نے بھی سمندری حدود کا دورہ کیا اور جیونی سے گوادر تک مختلف مقامات پر ماہیگیروں کے مسائل سنے اور اس موقع پر انہوں نے خود سمندری حدود میں ٹرالرنگ میں مصروف ایک ٹرالر کابھی پیچھا کیا جس کی وجہ سے بلوچستان کی سمندری حدود سے باہر نکل کر بھاگ گیا۔ جبکہ وزیر اعلی بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو کے کوارڈینیٹر برائے فشریز نے بھی پسنی میں مختلف علاقوں کا دورہ کرکے ماہیگیروں کے مسائل سنے اور انہیں یقین دہانی کی کہ موجودہ وزیر اعلی بلوچستان شعبہ ماہیگیری کی تحفظ کیلئے ہر ممکنہ اقدامات اٹھائیگی۔بلوچستان کی موجودہ حکومت نے سمندر کو نوے فیصد ٹرالروں سے پاک کیاہے جس سے سمندر میں ماہیگیروں کو با آسانی شکار مل رہاہے اور اس سے چھوٹے مچھیروں کو بھی شکار کا موقع مل رہاہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں