پنجاب اور کے پی انتخابات 90 روز میں کرانے کا حکم، سپریم کورٹ کے دو ججز کے اختلافی نوٹ

اسلام آباد (انتخاب نیوز) پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات کی تاریخ کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے پر دو ججز نے اختلافی نوٹ تحریر کئے۔ سپریم کورٹ نے پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 90 روز میں انتخابات کا حکم دے دیا ہے، تاہم کیس کی سماعت میں شامل 5 رکنی بینچ میں سے دو ججز جسٹس منصورعلی شاہ اورجسٹس جمال خان مندوخیل نے فیصلے پر اختلافی نوٹ تحریر کئے ہیں۔ جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس جمال خان مندو خیل نے فیصلے پر اختلافی نوٹ لکھتے ہوئے کہا ہے کہ آئین میں انتخابات کے لیے 60 اور 90 دن کاوقت دیا گیا ہے، ہائیکورٹس میں اسی طرح کا کیس زیر سماعت ہے، سپریم کورٹ ہائی کورٹ میں زیر التوا معاملے پر ازخود نوٹس نہیں لے سکتی۔ اختلافی نوٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ منظورالہی اور بے نظیر کیس کے مطابق ازخود نوٹس لینا نہیں بنتا، لاہورہائیکورٹ پہلے ہی مقدمہ کا فیصلہ کرچکی ہے، از خود نوٹس لینے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی، از خود نوٹس جلد بازی میں لیا گیا، ازخود نوٹس کا اختیار سپریم کورٹ کواستعمال نہیں کرنا چاہیے تھا۔ اختلافی نوٹ میں کہا گیا کہ خیبرپختونخوا اسمبلی گورنر کی منظوری پرتحلیل ہوتی ہے، جنرل انتخاب کا طریقہ کار مختلف ہے، انتخابات پر از خود نوٹس اور 90 روز میں انتخابات کرانے کی درخواستیں مسترد کی جاتی ہیں۔ جسٹس جمال خان مندو خیل اور منصور علی شاہ نے اختلافی نوٹ میں کہا ہے کہ جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس اطہر من اللہ کے 23 فروری کے نوٹ سے متفق ہیں۔ جسٹس اطہر من اللہ نے اپنے اختلافی نوٹ میں لکھا ہے کہ اوپن کورٹ میں دیاگیا حکم تحریری حکم نامے سے مطابقت نہیں رکھتا، ہمارے سامنے رکھے گئے سوال کو علیحدہ نہیں دیکھا جاسکتا، اسمبلیاں توڑنے کی آئینی حیثیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، کیا اسمبلیاں آئینی اصولوں کو روند کر توڑی گئیں؟ قانونی حیثیت پر سوالات بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی سے متعلق ہیں۔ جسٹس اطہر من اللہ نے نوٹ میں لکھا کہ سامنے آنے والا معاملہ صوبائی عدالت کے سامنے موجود ہے، اس معاملے کا سپریم کورٹ آنا ابھی قبل از وقت ہے، چیف جسٹس نے مجھ سے معاملے پر سوالات مانگے، کیا وزیراعلیٰ اپنی آزادانہ رائے پر اسمبلی توڑ سکتا ہے؟ کیا کسی بنیاد پر وزیر اعلیٰ کی ایڈوائس کو مسترد کیا جاسکتا ہے۔ جسٹس یحییٰ آفریدی نے اپنے اختلافی نوٹ میں لکھا کہ الیکشن کا معاملہ پشاور اور لاہور ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے، اسی دوران سپریم کورٹ کی جانب سے ریمارکس ہائی کورٹس میں زیر سماعت مقدمات پر اثرانداز ہوں گے۔ جسٹس یحییٰ آفریدی نے اختلافی نوٹ میں لکھا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے از خود نوٹس کا کوئی جواز نہیں، میری بینچ میں شمولیت سے متعلق فیصلہ چیف جسٹس پر چھوڑتا ہوں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں