خضدار سے 4 نوجوانوں کو لاپتہ ہوئے 14 سال ہوگئے، انسانی حقوق کی تنظیمیں آواز بلند کریں، بی این پی
کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچستان نیشنل پارٹی کے جاری کردہ مرکزی بیان میں کہا گیا کہ خضدار سے لاپتہ ہونے والے کبیر بلوچ، مشتاق بلوچ، عطا اللہ بلوچ،اور سعد اللہ بلوچ کی جبری طور پر گمشدگی کو 14 سال مکمل ہونے کو ہیں لواحقین نے اپنے پیاروں کی بازیابی کیلئے کوئٹہ سے لیکر کراچی، اسلام آباد، خضدار کے پریس کلبوں اور مین شاہراہوں پر سیاسی، جمہوری انداز میں احتجاجی، مظاہرے، دھرنے دیے اور عدالتوں سے انکی بازیابی کیلئے درخواستیں دی لیکن آج تک انہیں بازیاب کیا جارہا ہے اور نہ انہیں عدالتوں میں پیش کیا جارہا ہے جس کے نتیجے میں انکے لواحقین شدید غم دکھ اور درد پریشانیوں و کرب سے دوچار ہیں، ملک کے قوانین کے تحت اگر انہوں نے کوئی جرم کیا بھی ہے تو انہیں عدالتوں میں پیش کیا جائے ملکی قوانین ماورائے آئین و غیر قانونی جبری گمشدگیوں کی اجازت نہیں دیتا جو اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ بااختیار قوتوں کو اپنے ملکی قوانین اور عدالتوں پر اعتماد نہیں ہے۔ بلوچستان میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں اغوا نما گرفتاریاں اور جبری گمشدگیوں نے بلوچستان میں سنگین انسانی بحران پیدا کر رکھا ہے، بلوچستان کی سیاسی قومی سوال کو بزور طاقت اور آمرانہ انداز میں ہر گز کمزور نہیں کیا جاسکتا ہے۔ لہٰذا بلوچستان میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کا سلسلہ بند کرکے تمام لاپتہ بلوچوں کو بازیاب کیا جائے اور اس ناانصافی کیخلاف انسانی حقوق کی علمبردار تنظیمیں آواز بلند کریں۔ بی این پی نے بلوچ لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے ہر سطح اور ہر فورم پر سیاسی، جمہوری انداز میں آواز بلند کرتے ہوئے اس ناروا، غیر جمہوری و غیر آئینی اقدام کیخلاف احتجاج کیا ہے۔


