سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پارلیمنٹ کو غیرفعال کر دیا گیا، رضا ربانی
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پیپلز پارٹی کے سینیٹر رضا ربانی نے کہا ہے کہ یہ بات ماننے سے قاصر ہوں کہ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجز بل کا تعلق 90 دن کے اندر الیکشن کرانے سے متعلق ہے، یہ بل وکلا برادری کا پرانا مطالبہ رہا۔سینیٹ میں سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجز بل پیش ہونے کے بعد اظہار خیال کرتے ہوئے رضا ربانی نے کہا کہ لاتعداد ایسی قراردادیں ہیں جس میں بار کونسلز کی جانب سے ازخود نوٹس پر نظرثانی کا مطالبہ کیا گیا، تشویش کی بات ہے ادارے غیرفعال یا دست و گریباں ہونے لگیں تو یہ ریاست کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے، سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پارلیمنٹ کو غیرفعال کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند دنوں سے سپریم کورٹ کی صورت حال تشویشناک ہے، ڈائیلاگ کی بات آج بھی ہو گی تو وہ پارلیمان سے ہو گی، از خود نوٹس میں اپیل پہلے نہیں تھی، درحقیقت یہ تمام تر مسائل سیاسی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی کی بات ہے سیاسی جماعتیں پارلیمان کے بجائے اپنے تنازع کو سپریم کورٹ لے کر گئیں، سپریم کورٹ کو پارلیمان کے تنازع کا حصہ بننا پڑا، سپریم کورٹ ثالث نہیں بن سکتی۔


