پنجگور، گورنمنٹ گرلز کالج خدابادان لیبارٹریز میں سائنسی آلات، بسوں کی کمی سمیت بنیادی سہولیات سے محروم

کوئٹہ(مانیٹرنگ ڈیسک)گورنمنٹ گرلز کالج خدابادان پنجگور جو کم عرصے میں درس وتدریس کے حوالے سے ایک منفرد مقام حاصل کرنے میں کامیاب رہا مگر رکن صوبائی اسمبلی پنجگور اور اقتدار رہنے والوں کی عدم تعاون اور عدم توجہی کی وجہ سے مسائل کا بھی شکار ہوگئی ہے کالج میں جولائی 2022 سے تدریسی خدمات سرانجام دینے والے پرائیویٹ ٹیچرز تاحال اعزازیہ سے محروم ہیں اسکے ساتھ ساتھ بکالج کا سائنس لیب ضروری سامان کمپیوٹر اور دیگر ضروری لوازمات کی عدم فراہمی کی وجہ سے غیر فعال ہوچکی ہے جس سے کالج کے اسٹاف اور اسٹوڈنٹس کو کافی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا رہا ہے ۔کالج کے لیے 2011 اسٹوڈنٹس بس فراہم کی گئی تھی اسکے سروسز کو اسٹوڈنٹس کو سہولت دینے کیلئے کالج انتظامیہ کو شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے تفصیلات کے مطابق گورنمنٹ گرلز کالج خدابادان پنجگور جو کم مدت میں مسائل کے باوجود تدریسی حوالے سے اپنا ایک الگ تشخص بنانے میں کامیاب رہی وہیں منتخب نمائندوں کی عدم تعاون اور عدم توجہی کی وجہ سے مسائل کا شکار ہوگئی ہے کالج میں تدریسی اسٹاف کا بحران ہے کالج انتظامیہ کے پاس اتنے وسائل بھی نہیں کہ وہ ازخود پرائیویٹ ٹیچرز رکھے جولائی 2022 سے جو پرائیویٹ ٹیچرز خدمات سرانجام دے رہے ہیں انکو تاحال اعزازیہ نہیں مل سکی ہے الٹا وہ ویگن اور ٹیسکی والوں کے مقروض بن کر ذہنی اذیت کا شکار ہوگئی ہیں گورنمنٹ گرلز کالج پنجگور کتابوں کی مد میں بھی مقروض ہوچکی ہے 2020 کو کالج کی لائبریری کے لیے جوپانچ لاکھ کی کتابیں لاہور سے پرچیز کی گئیں تھیں تاحال یہ رقم ادا نہیں کی جاسکی ہے زرائع کے مطابق کالج کے لیے اس وقت کے سیکریٹری خزانہ نورالحق بلوچ نے پانچ لاکھ کا گرانٹ منظور کروایا تھا مگر وہ پیسے کالج کو نہیں ملے جن سے یہ کتابیں پرچیز کی گئیں تھیں زرائع کے مطابق کالج میں جن سبجیکٹس کے لیے اسٹوڈنٹس موجود ہیں ان سبجیکٹس کو پڑھانے کے لیے ٹیچرز دستیاب نہیں اورجن کے لیے اسٹوڈنٹس نہیں انکے لیے ٹیچر موجود ہے زرائع کیمطابق گرلز کالج اس وقت مالی مشکلات اور مطلوبہ تدریسی اسٹاف کی عدم موجودگی کی وجہ سے تنزلی کی طرف جارہی ہے جسکے انتہائی منفی اثرات کالج میں زیر تعلیم بچوں کی مستقبل پر پڑیں گے واضح رہے کہ چند سال پہلے گرلز کالج خدابادان پنجگور صرف ایک نامکمل بلڈنگ تک محدود تھی مگر کالج کی پرنسپل نے زاتی کاوشوں سے اسے نہ صرف علمی سرگرمیوں کا مرکز بنایا بلکہ کالج کی نامکمل بلڈنگ کی تکمیل میں بھی بھرپور کردار ادا کیا جس کے بعد یہ کالج تدریسی حوالے سے اپنا ایک منفرد مقام بنانے میں کامیاب رہی گرلز کالج خدابادان پنجگور میں اس وقت سینکڑوں بچیاں زیر تعلیم ہیں اور کالج میں تدریسی اسٹاف کی کمی اور دیگر مسائل تعلیم کے فروغ میں رکاوٹ بن رہی ہیں جن سے بچیوں کا مستقبل غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہوگئی ہے ماہرین تعلیم کے مطابق کسی بھی علمی ادارے کے لیے تدریسی اسٹاف کا ہونا سب سے زیادہ اہم ہے بلڈنگ اور عمارتیں ازخود آباد نہیں ہوتیں محکمہ تعلیم حکومت بلوچستان گورنمنٹ گرلز کالج خدابادان پنجگور کے جائز مسائل کے حل کے لیے مناسب اور فوری اقدام کرے تاکہ تعلیم نسوان کا فروغ محض لفاظی بنیادوں کی بجائے حقیقی روپ دھار کر لوگوں کی یقین میں مذید پختگی کا زریعہ بنے کہ واقعی حکومت بچیوں کی ایجوکیشن کو ترقی دینے میں بھی سنجیدہ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں