جامعہ بلوچستان کا مالی بحران، تنخواہوں کی عدم ادائیگی کیخلاف جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی احتجاجی ریلی اور دھرنا
کوئٹہ : جوائنٹ ایکشن کمیٹی جامعہ بلوچستان کے زیر اہتمام 11 اپریل بروز منگل کو بھی پچھلے تین مہینوں کی تنخواہوں کی تاحال عدم ادائیگی، جامعہ بلوچستان سمیت دیگر جامعات کو درپیش سخت مالی و انتظامی بحران کی مستقل حل، بلوچستان یونیورسٹیز ایکٹ 2022 کی پالیسی ساز اداروں میں اساتذہ، آفیسران، ملازمین اور طلبا وطالبات کی منتخب نمائندگی، غیر قانونی طور پر مسلط وائس چانسلر کی برطرفی ، افسران و ملازمین کی پروموشن، آپ گریڈیشن اور ٹائم سکیل کی فراہمی کے لئے جامعہ بلوچستان میں مکمل تالا بندی اور امتحانات و ٹرانسپورٹ بند رہے اور ایک بڑی احتجاجی ریلی جامعہ بلوچستان میں نکالی گئی جو وائس چانسلر سیکرٹریٹ کے سامنے احتجاجی دھرنے میں تبدیل ہوئی احتجاجی دھرنے میں سینکڑوں کی تعداد میں اساتذہ، افسران و ملازمین نے شرکت دھرنا پروفیسر ڈاکٹر کلیم اللہ بڑیچ کی صدارت میں ہوا دھرنے سے پروفیسر ڈاکٹر کلیم اللہ بڑیچ، شاھ علی بگٹی، نذیر احمد لہڑی، پروفیسر فرید خان‘ نعمت اللہ کاکڑ، گل جان کاکڑ، سید محبوب شاھ، حافظ عبدالقیوم اور سید شاہ بابر نے خطاب کیا مقررین نے کہا کہ جامعہ بلوچستان کے اساتذہ اور ملازمین نے کل صوبائی اسمبلی کے سامنے بھی اپنی بنیادی حق تنخواہ کے لئے احتجاج کیا، مقررین نے سینٹ آف پاکستان میں نیشنل پارٹی کے سینٹر طاہر بزنجو، ممبران صوبائی اسمبلی نصراللہ خان زیرے، ٹنا بلوچ، تمام سیاسی جماعتوں، طلباءتنظیموں، لیبر فیڈریشن و ایمپللائز ایسوسی ایشنز کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے جامعہ بلوچستان کے اساتذہ اور ملازمین کی تنخواہوں و دیگر مسائل کے حل کےلئے اواز اٹھایا‘ مقررین نے کہا کہ مرکزی اور صوبائی حکومت اس اہم مسئلے کی مستقل حل کےلئے سنجیدگی کا مظاہرہ کرے مقررین نے کہا کہ غیرقانونی طورپرمسلط وائس چانسلر نے جامعہ بلوچستان کو تباہ و برباد کردیا کسی اہل پروفیسر کو میرٹ کے مطابق وائس چانسلر تعینات کیا جائے جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے اعلان کیا کہ جب تک جامعہ بلوچستان کے اساتذہ اور ملازمین کو ماہانہ تنخواہ کی بروقت ادائیگی نہیں ہوتی اور جامعات کو درپیش مالی اور انتظامی مسائل کا مستقل حل نہیں نکالا جاتا جامعہ بلوچستان میں تالا بندی ،امتحانات اور ٹرانسپورٹ نہیں چلایا جائے گا۔


