پاکستان میں مذہبی جماعتوں کے رہنما تخریب کاروں کے نشانے پر ہیں، حافظ حسین احمد

کوئٹہ : جمعیت علماءاسلام پاکستان کے مرکزی رہنما و سابق سینیٹر حافظ حسین احمد نے امیر جماعت اسلامی سراج الحق پر ژوب میں ہونے والے خودکش حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سراج الحق پر خودکش حملہ بزدلانہ اور قابل مذمت ہے، پاکستان میں مسلسل مذہبی رہنما¶ں کو تخریب کاری کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ امیر جماعت اسلامی سراج الحق پر ہونے والے خودکش حملے کے بعدحافظ حسین احمد نے ان سے فون پر رابطہ کرکے خیرت معلوم کی۔ سینئر سیاستدان حافظ حسین احمد نے مزید کہا کہ بدقسمتی سے پاکستان میں دینی جماعتوں کے رہنما تخریب کاری کا نشانہ بنتے رہے ہیں۔ جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن پر تین بار خودکش حملے کئے گئے، مولانا عبدالغفور حیدری، مولانا محمد خان شیرانی سمیت دیگر پر خودکش حملے ہوئے ہیں، پاکستان میں لبرل طاقتیں تخریب کاری کو مذہبی جماعتوں سے جوڑنے کی کوشش کرتی ہیں لیکن سب سے زیادہ مذہبی طبقہ ہی تخریب کاروں کے نشانے پر رہا ہے جن پر تخریب کاری کا ٹھپہ لگایا جاتا ہے آج ان پر ہی حملے ہورہے ہیں حالانکہ جو لبرل لوگ الزام لگاتے ہیں وہ تو دندناتے پھر رہے ہیں۔ جے یو آئی کے رہنما نے کہا کہ تخریب کاری میں ہمارے کئی جید علماءکرام شہید ہوئے جن میں مولانا شامزئی، مولانا سمیع الحق، ڈاکٹرعادل، مولانا محمد حنیف، مولانا حسن جان، مفتی جمیل اور دیگر شامل ہیں لیکن افسوس ہے کہ دینی رہنما¶ں پر ہونے والے حملوں میں ملوث ایک بھی تخریب کار گرفتار نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ امیر جماعت اسلامی سراج الحق پر ہونے والے خودکش حملے کی فوری تحقیقات کرکے اس کے ذمہ داروں کے خلاف کاروائی کی جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں