نوجوان بیروزگار، صوبے سے نکلنے والی گیس سے یہاں کے عوام محروم ہیں، حکمرانوں کا احتساب کرنا ہوگا، بلوچستان امن جرگہ
کوئٹہ :بلوچستان امن جرگے سربراہ سیاسی و قبائلی رہنماﺅں نے کہا ہے کہ 75سال سے صوبے کے وسائل کو بے دردی سے لوٹنے والے حکمرانوں کے احتساب کا وقت آگیا ہے، عوام کوباہر نکل کرارکان پارلیمنٹ کے گھروں کے سامنے دھرنے دیکران سے پوچھنا ہوگا کہ صوبے کی ترقی کیلئے آنے والے اربوں روپے کے فنڈز کہاں خرچ ہوئے ہیں، سرکاری محکموں میں نوکریوں کی فروخت اور بندر بانٹ کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے اگر حکمرانوں نے ملازمتیں فراہم کرنے کی کوشش کی تو عوام کے ہاتھ اورانکے گریبان ہونگے ،ہمسایہ ممالک سے آنے والے پیٹرول اوردیگراشیاءپر چیک پوسٹوں پر بھتہ گیری کا سلسلہ فوری طور پر بندکرکے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے فوری اورعملی اقدامات اٹھائیں گے ۔یہ بات بلوچستان امن جرگے کے سربراہ لالا یوسف خلجی ، مولانا غازی کمال ،متحدہ قومی موومنٹ کے صوبائی صدر ملک عمران کاکڑ، امیر حمزہ، شاہ مراد یوسفزئی، بیرسٹر عامر مندوخیل، علا¶ الدین کاکڑ، منیر تاجک ، ملک قیوم کاکڑ، فضل الرحمن ،محب اللہ اوردیگر نے جمعہ کو بلوچستان امن جرگے اور متحدہ قومی موومنٹ کے زیراہتمام بلوچستان اسمبلی کے سامنے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ مقررین نے کہا کہ بلوچستان میں اساتذہ کی 9ہزار کے قریب اسامیوں کی بندربانٹ اور خریدوفروخت بند اور سی ٹی ایس پی کے نام پر وول کردہ کروڑوں روپے واپس کرکے نوکریاں پبلک سروس کمیشن کے ذریعے پر کی جائیں سرکاری ہسپتالوں اور سرکاری اسکولزکے نام پر سالانہ اربوں روپے ملنے کے باوجود اسکو غیر فعال رکھ کر عوام کو پرائیویٹ ہستپالوں اور اسکولز کے نام پر لوٹنے کو بند کرکے سرکاری اداروں کو فعال کیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے بجٹ میں 2018ءسے 2023ءمیں رکھے گئے ایک ہزار ارب روپے ترقیاتی بجٹ کا حشاب بذریعہ عوامی پبلک پیپر جاری کیا جائے اوراسکا آڈٹ کسی تیسرے غیر متنازعہ فریق سے کروا کر کرپشن اور خوردبرد کے ذمہ دار عناصر کو سزادی جائے ۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں پڑھے لکھے نوجوان ہاتھوں میں ڈگریاں لئے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں جبکہ سول سیکرٹریٹ میں سرکاری محکموں میں خالی پوسٹوں کی سرعام خریدوفروخت ہورہی ہے جس سے پڑھے لکھے نوجوان مایوسی کا شکار ہورہے ہیں لہذا آج کے اس احتجاجی مظاہرے کے توسط سے مطالبہ کرتے ہیں کہ نوکریوں کی خریدو فروخت فوری طور پر بند کرکے میرٹ پر نوجوانوں کو نوکریاںفراہم کی جائیں۔انہوں نے کہاکہ بلوچستان کے دارلخلافہ کوئٹہ کیلئے سالانہ 15سے 20ارب روپے کا بجٹ ہونے کے باوجود شہر کھنڈرات اور کچرے دان کی تصویر پیش کر رہاہے ترقیاتی کاموں کے نام پر روڈ کھود کر رکھ دیئے گئے ہیں جس سے شہری سانس سمیت مختلف بیماریوں کا شکار ہورہے ہیں لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ صوبے سے نکلنے والی گیس سے بلوچستان کے عوام محروم ہیں سردیوں میں تو گیس درکنارگرمیوں میں بھی شہری گیس کیلئے ترس گئے ہیں اور شہری سلنڈروں پر کھانا پکانے پر مجبور ہیں اسی طرح صوبے کے دارالحکومت کوئٹہ میں12جبکہ دیہی علاقوں میں 16سے 20گھنٹے کی طویل ترین لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے جس سے زراعت مکمل طور پر تباہہوگئی ہے اورکاروبارزندگی متاثر ہورہا ہے اور بلوچستان کے عوام کا کوئی والی وارث نہیں ہے جبکہ عوام کے منتخب نمائندے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کی بجائے کرپشن ،خوردبرد اوراپنے بینک بیلنس میں اضافے میں لگے ہوئے ہیں اب وقت آگیا ہے کہ عوام ان عوامی نمائندوں کا احتساب کریں گے اوران سے صوبے کی ترقی کیلئے آنے والے اربوں روپے کے فنڈز کا پوچھیں کہ وہ فنڈز کہاں خرچ ہوئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان امن جرگہ کسی کے خلاف نہیں ہے بلکہ عوام کے حقوق کے حصول کیلئے میدان عمل میں آیا ہے اب حکمرانوں کو عوام کے حقوق دینے ہونگے ہمارے کوئی ذاتی مفادات نہیں ہیں ہماحتجاج کی آڑ میں اپنے ذاتی مفادات حاصل کرنے والوں پر لعنت بھیجتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ ہمیں دیکھ رہا ہے اور ہم خالصتاً صوبے کے عوام کو درپیش مسائل کوا جاگر اورانہیں حل کرانے کیلئے احتجاج کرنے پر مجبورہوئے ہیں اگر حکمرانوں نے ہمارے احتجاج کے باوجود عوام کو بنیادی سہولیات اورصوبے کی ترقی کیلئے آنے والے اربوں روپے کے فندز کا حساب دینا ہوگا ورنہ عوام کے ہاتھ اور حکمرانوں کے گریبان ہونگے۔ہوں نے کہا کہ بلوچستان پولیس کی تنخ¶اہیں دیگر صوبوں کے پولیس اہلکاروں سے بہت کم ہے لہذا فوری طور پر پولیس اہلکاروں کی تنخواہیں دیگرصوبوں کے برابرکی جائیں ۔انہوں نے کہا کہ ہمسایہ ملک سے آنے والے پٹرول اوردیگر اشیاءپرسرعام چیک پوسٹوں پر بھتہ وصول کیا جاتا ہے جو عوامی خزانے میں جمع ہونے کی بجائے چند افراد کی جیبوں میں چلاجاتا ہے جس کی وجہ سے صوبے میں ایرانی پٹرول 240روپے فروخت ہورہا ہے حکومت چیک پوسٹوں پر بھتہ خوری کو فوری طور پر ختم کرنے کیلئے اقدامات اٹھائے۔انہوں نے کہا کہ حکومت اوراپوزیشن جماعتیں عوام کو ریلیف فراہم کرنے کی بجائے ایک دوسرے پر الزامات لگانے اور ٹانگیں کھینچنے میں مصروف ہیں مہنگائی کے ہاتھوں عوام خود کشیاں کررہے ہیں لیکن حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی ہے وفاقی اور صوبائی حکومتیں فوری طور پر عوام کو ریلیف فراہم کرنے اور مہنگائی کے خاتمے کیلئے اقدامات اٹھائیں۔


