امریکا میں جلاﺅ گھیراﺅمیں ملوث سابق و حاضر سروس فوجیوں کو سزا کا سامنا
واشنگٹن :صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں سیاست کی آڑ میں سرکاری عمارتوں کا جلاﺅ گھیراﺅ، توڑ پھوڑ اور پرتشدد مظاہرے سنگین جرم ہیں، سیاسی فسادات میں ملوث سابق و حاضر سروس امریکی فوجیوں کو جیل کی سزا کا سامنا بھی کرنا پڑا تھا۔ رپورٹ کے مطابق امریکا کے 70 سے زائد حاضر سروس و سابق فوجیوں کو 6 جنوری 2021 کو امریکی کانگریس پر حملہ کرنے کے مجرمانہ الزامات کا سامنا ہے۔ امریکا میں پرتشدد مظاہرے ٹرمپ کی طرف سے احتجاج کی کال کا نتیجہ تھے۔ یہ جھوٹا دعوی کیا گیا تھا کہ 2020 کے انتخابات کو ڈیموکریٹس نے چوری کرلیا ہے۔ امریکی محکمہ انصاف کو آڈیو ریکارڈنگ اور فسادیوں کی سوشل میڈیا پوسٹس کے ذریعے پتہ چلا کہ پرتشدد فسادات کیلئے ہجوم کو اکٹھا کرنا اور اکسانا ایک منظم منصوبہ بندی تھی۔ سابق امریکی فوجیوں پر سازش، کار سرکار میں مداخلت، سرکاری املاک کو تباہ کرنے اور حساس مقامات میں غیر قانونی داخلے کے الزامات عائد کئے گئے ہیں۔ امریکی حکومت کی طرف سے سابق فوجیوں کیخلاف مزید سخت کارروائیوں کی درخواست کی گئی ہے، سابق فوجی جنہیں سزا سنائی گئی ہے ان میں اوہائیو کی 2 سابق فوجی خواتین جیسیکا واٹکنز اور فلوریڈا کے کینتھ ہیریلسن کو ساڑھے 8 سال اور 4 سال قید کی سزا بھی سنائی گئی۔ اس کے علاوہ مخلتف جرائم میں سزائیں پانے والوں میں ڈینیئل رے کالڈویل، یو ایس میرین، سابق امریکی بحریہ کے ریزروسٹ، ہیچٹ اسپیڈ، ریٹائرڈ لیفٹیننٹ کرنل لیری رینڈل بروک جونیئر و دیگر شامل ہیں۔


