پاکستانی معیشت کی تباہی کی بڑی وجہ رئیل اسٹیٹ اور ڈالر ہے، خرم دستگیر

فیصل آباد : وفاقی وزیر برائے پانی وبجلی انجینئر خرم دستگیر خاں نے کہا ہے کہ رئیل اسٹیٹ اور ڈالر نے پاکستانی معیشت کو توڑ مروڑ دیا ہے، مہنگی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت بھی موجود ہے مگر اِن پرانے بجلی گھروں کو صرف مجبوری کی حالت میں چلایا جاتا ہے کیونکہ اِن سے پیدا ہونے والی بجلی 65روپے فی یونٹ میں پڑتی ہے وہ برآمدی شعبہ کو رعایتی بجلی دینے کے مخالف نہیں لیکن اِس کی قیمت حکومت کو ادا کرنا ہو گی، اب چونکہ صنعتی شعبہ بھی سولر پر آرہا ہے اس لئے ان کیلئے الگ سسٹم بنائیں گے، سولر سے بجلی کی اوسط قیمت کم ہونا شروع ہو جائےگی جبکہ دوسرا منصوبہ یہ ہے کہ سرمایہ کار دیہی گرڈز کے نزدیک سولر پلانٹ لگائیں جہاں سے بجلی گرڈ کے ذریعے فیسکو کو فروخت کی جا سکے گی اور اس کی ادائیگی بھی فیسکو ہی کرے گا ۔2028-29میں داسو اور دیامر بھاشا ڈیموں سے بھی ساڑھے چار ہزار میگا واٹ فی ڈیم بجلی ملنا شروع ہو جائےگی۔ پرانے بجلی کے بلبوں کی تیاری پر مکمل پابندی لگا دی گئی ہے جبکہ نئے پنکھے بھی Inverterٹیکنالوجی پر تیار ہوںگے۔ اگلے مرحلہ میں تمام موٹر سائیکل اور رکشے بجلی پر منتقل ہو جائیں گے تاہم اس سلسلہ میں مکمل ڈھانچہ مہیا کرنا ہوگا۔ اس طرح ہم 3-6بلین روپے کے تیل کی درآمد سے بچ سکیں گے، صنعتی موٹروں میں بھی بجلی ضائع ہو رہی ہے لیکن ان کو درست کرنے میں فی الحال بہت سی روکاوٹیں ہیںحکومت نے سستی بجلی کی فراہمی کیلئے فیصلہ کیا ہے کہ آئندہ لگنے والے تمام بجلی گھروں میں صرف اور صرف مقامی ایندھن استعمال ہوگا تاکہ درآمدی فیول پر خرچ ہونے والے بھاری زرمبادلہ کی بچت کی جا سکے۔ آن لائن کے مطابق ا ان خیالاے اظہار انہوں نے فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری میں بزنس کمیونٹی سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہو ئے کیا انہوںنے کہا کہ وہ آج سی پیک کے تحت قائم ہونے والے علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی کی بجلی کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے 20 ارب روپے سے تعمیر ہونے والے 500کلو واٹ کے نئے گرڈ اسٹیشن کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب میں شرکت کیلئے آئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ایک سال قبل جب شہباز شریف کی حکومت بر سر اقتدار آئی تو ہم نے فیصلہ کیا کہ 2018سے 2022ءکے دوران جن بجلی گھروں پر کام روکا یا اِن پر کام کی رفتار کو سست کر دیا گیا تھا اِن کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ اِن کوششوں کے نتیجہ میں 720میگا واٹ کا کروٹ ہائیڈرو الیکٹر ک پاور پراجیکٹ مکمل کیا گیا ۔ اسی طرح تھر کول کے مختلف بلاکس کے میں کوئلے سے چلنے والے رکے ہوئے منصوبوں کو دھکا لگانا پڑا اور ان سمیت 3منصوبے گزشتہ ایک سال سے 1980میگا واٹ بجلی دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیو کلیئر بجلی گھرK3اورK4 کا منصوبہ 2014ءمیں نواز شریف کے دور میں شروع ہواتھا اِس کے تحت K-3سے 1100میگا واٹ بجلی ملے گی اور یہ اسی سال پیداوار دینا شروع کردے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایک سال میں مجموعی طور پر 7800میگاواٹ بجلی سسٹم میں آئی اور اِن کیلئے ایندھن باہر سے نہیں منگوانا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے پچھلے سال ستمبر سے بجلی کی قیمت نہیں بڑھائی کیونکہ ہمیں تھر اور کروٹ سے سستی بجلی مل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 7800میگاواٹ کے اضافہ سے بجلی کی مجموعی پیداوار 28,800میگا واٹ ہو گئی ہے۔ پچھلے سال جون میں زیادہ سے زیادہ لوڈ 30,000میگا واٹ جبکہ جنوری میں کم سے کم لوڈ 8,600میگاواٹ رہا۔ کم لوڈ کو In orderرکھنے کیلئے 22ہزار میگا واٹ کیلئے کیپسٹی پے منٹ کرنا پڑتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں