حکومت باتیں نہیں، کام کرے

کہیں اچھا ہوتا کہ مختصر وقفوں کے بعد حکومت عدالت میں کھڑی سوالوں کا جواب نہ دے رہی ہوتی بلکہ اس کی کارکردگی اتنی اچھی ہوتی کہ عدالت کو از خود نوٹس لینے کی ضرورت ہی پیش نہ آتی۔آج کل سپریم کورٹ کا ایک چار رکنی بینچ کورونا وائرس اور ٹِڈی دَل جیسے دو بڑے اور فوری حل طلب مسائل کے حوالے سے مقدمات کی سماعت کر رہا ہے۔معزز عدالت نے حکومت سے سوال کیا:”کورونا کے حوالے سے حکومت ابھی تک قانون سازی کیوں نہیں کر سکی؟“کورونا وائرس کے باعث لگنے والی پابندیوں کے حوالے سے چیف جسٹس گلزار احمدنے ریمارکس دیئے کہ ہم تو پہلے دن سے فنکشنل ہیں عدالتیں بند نہیں کر سکتے ہم بھی کورونا کی حدت کو محسوس کر رہے ہیں۔سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے مؤقف اپنایا کہ وفاقی حکومت کورونا سے بچاؤ کے لئے اقدامات کر رہی ہے اور اب اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر(ایس او پیز) پر عمل درآمد کو یقینی بنائے گی۔ بینچ کے معزز رکن جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے: نہیں معلوم کورونا کے مریضوں کی تعداد کہا ں جا کے رکے گی؟ کورونا وائرس کسی صوبے میں تفریق نہیں کرتا اور لوگوں کو مار رہا ہے ویکسین کی تیاری سے قبل کورونا سے بچاؤ کا راستہ احتیاطی تدابیر ہیں شہریوں کی ذمہ دارای دکھانی ہوگی۔وفاقی حکومت کو اس معاملے پر قائدانہ کردار ادا کرنا چاہیئے،انہوں نے بھی حکومت کو کورونا کے حوالے سے قانون سازی کی ہدایت کی۔عدالت نے این ڈی ایم اے سے طبی سامان کی تیاری کے لئے مشینری درآمد کرنے کا ریکارڈ اور دیگر تفصیلات بھی طلب کر لیں۔
دوسرا فوری حل طلب مسئلہ پاکستان میں ٹڈی دل کا خاتمہ ہے۔یہ بھی عدالت میں زیر سماعت ہے۔معزز عدالت نے کہا:ٹڈی دل چار ماہ سے ملک میں موجود ہے دو بار افزائش کر چکا ہے لیکن اس پر اسپرے کے لئے 4جہاز فعال نہیں ہیں ان کے پائلٹ ہی نہیں تھے تو یہ چار جہاز کہاں سے آگئے؟چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے:سکھر میں ایک جہازکھڑا ہے تیز ہوا چلی تو اڑ جائے گاکسی نے اس جہاز کو باندھ کر بھی نہیں رکھا۔چیف جسٹس نے پوچھا: لیز پر جہاز کیوں لیا گیا؟کیا پاکستان میں اسپرے کے لئے جہاز نہیں مل سکتا تھا؟کیا ترکی سے جہاز لیز پر لینے کے لئے قواعد کی کی پیروی کی گئی؟ کیا لیز پر لینے کے لئے ٹینڈر دیا گیا تھا؟ این ڈی ایم اے کے رکن نے جواب دیا: ”ترکی سے جہاز ایمرجنسی بنیادوں پرلیا گیا ہے“۔عدالت نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا نہیں معلوم ترکی سے جہاز لیز پر لے کر کس نے فائدہ اٹھایا ہے؟ ٹڈی دل کے حملے فوڈ سیکیورٹی کو متأثر کریں گے کیا حکومت ٹڈی دل سے لڑنے میں سنجیدہ ہے؟ٹڈی دل کے حملوں سے فصلوں کو کتنا نقصان پہنچا ہے؟نقصان کے نتیجے میں باہر سے فوڈ منگوانے پر کرنے اخراجات آئیں گے؟عدالت نے آئندہ سماعت پر حکومت سے تمام تفصیلات طلب کر لی ہیں۔عدالت نے ہلکے پھلکے انداز میں یہ اشارا بھی دیا کہ طویل عرصے کے بعد ٹڈی دل نے حملہ کیا ہے۔اس ایک جملے سے حکومت کو بڑا حوصلہ ملے گا لیکن حکومت کے متعلقہ ادارے کو اپنی غفلت لاپروائی اور ہنگامی صورت حال کا مقابلہ کرنے کے بھرپور تیاری کے فقدان پر عدلیہ کو مطمئن کرنا آسان نہیں ہوگا۔متعلقہ محکمے کی زبوں حالی پر بھرپور انداز میں باز پرس تو کی جانی چاہیئے اور ادارے کو اس حالت تک پہنچانے کے ذمہ داروں کو قرار واقعی سزا بھی ملنی چاہیئے۔یقیناً حکومت اس سوال کا جواب بھی دے گی کہ چار مہینوں سے ٹڈی د ل ملک میں موجود ہے اس کے سدباب کے لئے بروقت اقدامات کیوں نہیں کئے گئے؟ممکن ہے آئندہ سماعت تک ملنے والی مہلت سے متعلقہ ادارہ فائدہ اٹھاتے ہوئے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرے اور کسی حد تک اس قابل ہوجائے کہ عدالت میں زیادہ شرمندگی نہ اٹھانا پڑے۔
کورونا کے حوالے سے ضروری قانون سازی نہ ہونے کی تما تر ذمہ داری حکومت کے سر جاتی ہے۔ اس لئے کہ یہ کام وزارت قانون اور پارلیمنٹ مل کر انجام دیتے ہیں۔مسودے کی نوک پلک وزارت قانون سنوارتی ہے اور منظور ی پارلیمنٹ دیتی ہے۔کورونا مسئلہ ملکی سطح کا مسئلہ ہے جس کی کڑیاں عالمی سطح تک پھیلی ہوئی اور ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔ 26فروری سے پہلے کیا ہوا اس پر الزام تراشی کسی اور وقت کے اٹھا رکھی جائے۔فی الحال عدالتی ہدات پر عمل کیا جائے اور مجوّزہ قانون دو ہفتوں کے دوران منظور کرکے ملک میں نافذ بھی کر دیا جائے۔زیادہ بہتر ہوگا کہ اہم مسائل پر درکار قانون سازی میں مزیدتاخیر نہ ہو۔کورونا کا معاملہ سیاسی نہیں۔ہر پہلو سے انسانی زندگی کے بچاؤ سے جڑا ہوا ہے۔جیسا کہ معزز عدلیہ نے اپنے ریماکس میں کہا ہے کہ کورونا صوبائی تفریق نہیں کرتالہٰذا وفاق قائدانہ کردار ادا کرے اور اس ضمن میں قانون سازی کرکے چاروں صوبوں میں یکساں طور پر نافذ کیا جائے۔ قانون مختصر،سادہ،واضح اورجامع ہونا چاہیے۔ٹرانسپورٹ سمیت تمام کاروباری حلقوں سے مشاورت کی ضرورت ہوتو اس میں کوئی ہچکچاہٹ نہ محسوس کی جائے۔عدلیہ نے بھی محسوس کیا ہے کہ ویکسین کی تیاری تک احتیاطی تدابیر ہی کورونا سے بچاؤ میں مدد دے سکتی ہیں۔دنیا بھی اسی نتیجے پر پہنچی ہے اور ایک ایک کرکے تمام کاروباری سرگرمیاں بحال کی جارہی ہیں۔ سب جانتے ہیں پاکستان کی معیشت لاک ڈاؤن کا بوجھ اٹھانے کی سکت نہیں رکھتی۔قانون منظور ہوجانے کے بعد احتیاطی تدابیر پر عملدآمد کی راہ کافی حد تک ہموار ہو جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں