دالبندین،تنخواہوں کی عدم ادائیگی کیخلاف ریلوے ملازمین کا احتجاج

دالبندین(مانیٹرنگ ڈیسک)شدید گرمی میں تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے ستائے ہوئے ریلوے مزدوروں کا اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی ریلی اور شدید احتجاج ۔ زرائع کے مطابق دالبندین تفتان نوکنڈی احمدوال سیکشن ریلوے انجینیئرنگ برانچ کے سینکڑوں گینگ مین ملازمین اور مزدوروں نے ریلوے اسٹیشن سے ریلی نکالی جو کہ ریلوے مسجد چوک پر اختتام پذیر ہوئی اس موقع پر مزدوروں نے تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے خلاف شدید نعرے بازی ریلی کے شرکاء سے مزدور رہنماء عبدالغیاث برھانزئی نورزئی ملک حضور بخش نوتیزئی محمد رمضان ہیجباڑی لال محمد نوتیزئی عزیز سحر ہیجباڑی عید محمد لجئی لعل بخش جمال زئی عزیز محمد نوتیزئی حاجی ولی محمد حسنی امیر محمد مینگل عبدالرزاق مینگل محمد اسحاق بلوچ اور نذر محمد سمیت دیگر نے کہا کہ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ پاک ایران بین الاقوامی ریلوے لائن پر کام کرنے والے مزدوروں کا کوئی بھی پرسان حال نہیں ریلوے ملازمین انجئنرنگ گینگ مینوں کو گذشتہ 55 دنوں سے زیادہ ہورہا ہے کہ تنخواہیں نہیں مل رہا ہے جبکہ مذکورہ سیکشن میں زیادہ تر گینگ مین ملازمین کی آسامیاں خالی پڑی ہوئی ہیں چند ماہ قبل کچھ گینگ مین ملازمین بھرتی کیا گیا مگر انھیں واپس فارغ کر دیا گیا احمدوال دالبندین نوکنڈی تفتان سیکشن پر واقع ریلوے ٹریک بالکل ختم اور ناکارہ بن چکا ہے اسی سیکشن پر واقع ریلوے لانڈھیوں ریلوے رہائشی کالونیوں میں زندگی کی بنیادی سہولیات کا فقدان ہے حتی کہ شدید گرمی میں پینے کا صاف پانی میسر تک نہیں گذشتہ چار سالوں سے ریلوے ملازمین کو ٹی اے ڈی اے نہیں مل رہا ریلوے کے مزدور ہر مہینے 100 سے 80 کلو میٹر تک ریلوے پٹٹری سے ریت ہٹانے کے لیے جاتے ہیں ہر آدمی کو دس سے بارہ ہزار روپے کا خرچہ کرنا ہوتا ہے مگر کوئی ہماری داد رسی نہیں کررہا محکمہ ریلوے بھی خاموش ہے ریلوے کے سینکڑوں گینگ مین میٹ اور دیگر ملازمین تین سال قبل ریٹائرڈ ہوئے ہیں انھیں تاحال واجبات ادا نہیں کئے گئے جو کہ سراسر ناانصافی کے مترادف ہے ریلوے کے متاثرہ ملازمین نے محکمے کے اعلی حکام سے مطالبہ کیا کہ انھیں تنخواہیں فی الفور ادا کر دی جائیں تاکہ وہ عیدالاضحی کی خریداری کے ساتھ ساتھ اپنے اور اپنے بال بچوں کا پیٹ پال سکیں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور شدید گرمی میں تنخواہوں کی عدم ادائیگی سے ان کی زندگی اجیرن بن چکی ہے شہر کے بینکوں کا چکر کاٹتے کاٹتے ریلوے مزدور تنگ آکر احتجاج پر مجبور ہیں اگر حکام بالا نے ان کے مسائل پر توجہ نہیں دی تو وہ پاک ایران بین الاقوامی ریلوے لائن پر غیر معینہ مدت تک دھرنا دے کر شدید احتجاج سے گریز نہیں کریں گے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں