جدید دور میں بھی علاقے میں بنیادی سہولیات میسر نہیں، مستونگ کے رہائشی کی پریس کانفرنس

کوئٹہ (آن لائن) مستونگ کے رہائشی قبائلی رہنماءو سوشل ورکر سید میر سمالانی نے کہا ہے کہ علاقہ اکیسویں صدی کے جدید دور میں زندگی کی بنیادی سہولیات سے محروم ہے عوامی نمائندوں ، ارباب اختیار کی عدم توجہ کی وجہ سے لوگ آج بھی تعلیم صحت ، پینے کے صاف پانی اور مواصلات کی سہولیات سے مستفید ہونے سے قاصر ہےں۔ یہ بات انہوں نے اتوار کو کوئٹہ پریس کلب میں علاقے کی صورتحال کے حوالے سے پریس کانفرنس کے دوران کہی انہوں نے کہا کہ ہمارا علاقہ لڑی دشت سمالستان تحصیل کردگاپ میں 3 سکولز ، 1ہسپتال جو کہ عرصہ دراز سے بند پڑے ہیں اور ان کے ملازمین سرداروں کے رشتہ دار ہیں جو کہ گھر بیٹھے تنخواہ وصول کررہے ہیں اور ڈیوٹی دینے سے گریزاں ہے کوئی پوچھنے والا نہیں گزشتہ برس سیلاب کی وجہ سے زمینداروں کو سولر سمیت ٹیوب ویل اور دیگر حوالے سے شدید نقصان پہنچا مگر حکومت نے کوئی مدد نہیں کی سڑکوں کی حالت زار بھی انتہائی مخدوش ہے عوامی نمائندوں کو علاقوں کی تعمیر و ترقی کی بہتری اور عوام کو درپیش مسائل سے چھٹکارا دلانے کیلئے کوئی دلچسپی نہیں اور علاقے میں عوام کی سہولت کیلئے لگائے جانے والے میڈیکل کیمپ اور دیگر کیمپوں میں علاقے کے لوگوں کی جانب سے تعاون کرنے کی بجائے غلط تاثر دیا جاتا ہے جس سے لوگوں کو ان سہولیات سے کوئی فائدہ نہیں ہورہا آج میں مجبور ہوکر میڈیا کے توسط سے حکام بالا تک لوگوں کی داد رسی کے حوالے سے آگاہ کررہا ہوں میرے علاقے میں 100 گھرانے آباد ہیں لیکن ان کا کوئی پرسان حال نہیں لوگوں کی مشکلات جوں کی توں ہے حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو زندگی کی بنیادی سہولیات فراہم کرے تاکہ لوگوں کو مشکلات سے چھٹکارا دلا کر علاقے کی تعمیر و ترقی کو یقینی بنایا جاسکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں