بجٹ کی سمت درست کی جائے

اداریہ
آئندہ مالی سال کابجٹ آج قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گااس پر تھوڑی بہت مشاورت نمابحث پری بجٹ سیشن میں ہوچکی تفصیلی بحث بجٹ دستاویزات ملنے کے بعد کی جائے گی۔پاکستان سمیت دنیا کے پسماندہ یا عالمی مالیاتی اداروں کے مقروض ملکوں میں یہ محض ایک رسمی کارروائی جو آئینی تقاضہ ہے، اسے پورا کر دیا جاتا ہے۔جس پارلیمنٹ کے ممبران کی علمی استعداد گریجوایشن سے بھی کم ہو ان سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ اتنی ضخیم کتابیں اتنے کم وقت میں پڑھیں، ان کا تجزیہ کریں اور پھر ملک کی بنیادی مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے حکومت یا پارلیمنٹ کی رہنمائی کر سکیں۔بیشتر ایم این ایز اور ایم پی ایز الیکشن کے بعد شائد ہی اپنے حلقوں میں جاتے ہوں۔اس لئے مسائل سے بے خبری ان کی زبانوں پر تالا لگا دیتی ہے۔جو بولتے ہیں وہ بھی مثبت تجاویز پیش کرنے کی بجائے مخالفین پر لفظی گولہ باری کے سوا کچھ نہیں کرتے۔موجودہ اپوزیشن لیڈر متعدد بیماریوں کے ساتھ عمرکے اس حصے میں ہیں کہ کورونا سے بچاؤ کے لئے اجتماعات سے پرہیز کرتے ہیں،ان کی ضمانت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ایسے ماحول میں بجٹ پر تعمیری بحث کے امکانات کم ہیں۔بجٹ کی اصل منظوری آئی ایم ایف سے لینا تھی جو میڈیا اطلاعات کے مطابق لی جا چکی ہے۔حتّیٰ کہ یہاں تک کہا جارہا ہے کہ آئی ایم ایف نے تنخواہوں اور پینشن میں اضافے کی منظوری دے دی ہے۔یہ اطلاع پوری صورت حال کی منظر کشی کے لئے کافی ہے۔مزید کچھ کہنے یاپوچھنے کی گنجائش ہی نہیں سب کچھ کرسٹل کلیئر ہے۔روزِ روشن کی طرح عیاں ہے۔جس ملک کے حکمرانوں کو تنخواہوں اور پینشن میں اضافے کے لئے بھی آئی ایم ایف کی اجازت درکار ہو اس کی خودمختاری اور عالمی برادری میں عزت و وقارکے حوالے سے ایک سے زائد سوالات کا اٹھنا فطری امر ہے۔
ہماری سیاسی پارٹیوں نے اگر بجٹ سیشن میں اپنی تجاویز پیش کرنے کی سنجیدہ تیاری کی ہے تو سامنے آ جائے گی۔موجودہ دور ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیز رفتار اور سہل ہوچکا ہے۔جس شعبے کی معلومات درکار ہوں ایک کلک پر دستیاب ہیں۔شرط صرف یہ کہ ہمارے سیاست دان ان معلومات سے فائدہ اٹھانے میں دلچسپی اور مدلل انداز میں ایوان کے سامنے لانے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔بجٹ کو اگر عام فہم زبان میں بیان کیا جائے تویہ ذرائع آمدن میں اضافے،اور فضول خرچی سے بچانے کی منصوبہ بندی کا عمل ہے جیسا کہ ہر گھر میں صدیوں سے غیر محسوس انداز میں جاری و ساری ہے فرق یہ ہے کہ وہ ایک خاندان تک محدود ہوتا ہے جبکہ ملک کا بجٹ ملکی معاملات اور صوبائی بجٹ صوبائی امور تک محدود ہوتا ہے۔ بجٹ کی منظوری کے دوران کی جانے والی بحث میں ایک جملہ باربار سننے کو ملتا ہے:”یہ اعدادوشمار کا ایک گورکھ دھندہ ہے حکومت نے اصل حقائق عوام سے چھپالئے ہیں اور اعداوشمار کی جادوگری دکھا کر عوام کو سب اچھا ہے کی تصویر دکھانے کی کوشش کی ہے“۔عام آدمی کی دعا ہے کہ اس سال اراکین پارلیمنٹ ماضی کے مقابلے میں بہتر کارکردگی دکھائیں،بھرپور تیاری کے ساتھ ایوان میں آئیں حکومت کو ملکی مسائل کے بارے میں آگاہ کرنے کے ساتھ ساتھ اسے قابل عمل تجاویز بھی دیں،صرف جلی کٹی سنانے سے کام نہیں چلے گا،آج ملک جس مقام پر کھڑا ہے وہاں تک پہنچانے میں اپوزیشن کا خاصامعقول حصہ ہے۔موجودہ حکومت کو نیچا دکھانا ہی اپوزیشن کا واحد مقصد نہیں ہونا چاہیے بلکہ انہیں عوام کی مشکلات کا بھی احساس ہونا چاہیے اور ان مشکلات میں کمی لانے کے لئے اپوزیشن کے پاس مفید مشورے اور تجاویز ہوں تو ایوان میں لائیں۔معززاراکینِ پارلیمنٹ کا کام اس سے زیادہ نہیں۔آگے حکومت کی مرضی اور صوابدید ہے کہ وہ ان مثبت، کارآمد اور معروضی حقائق کے قریب تر تجاویز کے ساتھ کیا سلوک کرتی ہے؟بجٹ روایات کے مطابق اقتصادی سروے وزیر اعظم کو پیش کر دیا گیا ہے۔ماہرین معیشت نے ٹی وی ٹاک شوزمیں اپنی آراء کا اغاز کر دیا ہے، امید ہے کہ اراکین ماہرین معیشت کی آراء سے استفادہ کریں گے۔
معاشی مجبوریوں سے نکلنے کی کوشش کی جائے ورنہ آنے والی نسلیں حکمرانوں کواچھے لفظوں سے یاد نہیں کریں گی۔ پی ٹی آئی کی حکومت کی جانب سے تیسرا بجٹ پیش کیا جا رہا ہے۔پہلے بجٹ کی تیاری مسلم لیگ نون نے کی تھی اس لئے اس کے حوالے سے اسے گریس مارکس دیئے جا سکتے ہیں لیکن 2019-20اور2020-21 کے بجٹ کی تیاری میں پی ٹی آئی کی حکومت ایسا کوئی بہانہ نہیں پیش کر سکتی۔پی ٹی آئی نے اپنی مالیاتی ٹیم اپنی سمجھ کے مطابق خود چنی ہے اور اس کے اچھے برے تمام اثرات بھی قبول کرنا ہوں گے۔حکومت کے بارے میں عمومی تأثر یہی ہے کہ وہ اپنے فیصلوں پر عملدرآمد کرانے میں بوجوہ کمزور ہے۔آٹا بحران، چینی بحران اور پیٹرول بحران اسی کمزوری کے بڑے ثبوت ہیں۔اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ موجودہ کابینہ میں اہم وزارتیں انہی خاندانوں کے پاس ہیں جو ماضی کی حکومتوں میں شامل رہے ہیں اور اتنے ہی بااثر تھے جتنے کہ آج نظر آتے ہیں۔جہانگیر ترین اور بعض دوسروں کا نام شوگر تحقیقاتی کمیشن کے فیصلوں میں شامل ہے دیگر کے نام آٹا بحران اور پیٹرول بحران کی تحقیقات میں سامنے آجائیں گے۔اسٹیل مل کی نجکاری کے ساتھ ہی پی آئی اے کی نجکار ی کے لئے اقدامات کے اعلان کو اپوزیشن یہ سمجھتی ہے کہ یہ سب کچھ اپنے مخصوص ہمدردوں کو نوازنے کی ایک کوشش ہے۔حکومت بجٹ کی منظوری کے دوران ان شکوک کا ازلہ کرنے کی سنجیدہ کوشش کرے ورنہ اس کی راہ میں نئی مشکلات کھڑی ہو جائیں گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں