وفاق اور وزیراعلیٰ بلوچستان کی کاوش، 17 سال سے بند سبی ہرنائی ریلوے سیکشن کی بحالی پر کام شروع
سبی (آئی این پی) وفاقی حکومت کی کامیاب حکمت عملی وزیر اعلیٰ بلوچستان وفاقی وزیر ریلوے کی کاوش رنگ لے آئی17سال سے بند سبی ہرنائی ریلوے سیکشن کی بحالی کیلئے ہنگامی بنیادوں پر کام شروع یکم آگست کو ٹرین کی سیٹی گوجے گئی سبی ہرنائی سیکشن کی بحالی سے عوام کو سستے سفر جبکہ ریلوے کو روزانہ لاکھوں کی آمدنی کا امکان سبی ہرنائی سمیت دیگر علاقوں کی عوام کی نظریں وفاقی وصوبائی حکومت پر لگ گئیں مسلم لیگ کے مرکزی صدر وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف کی قائدانہ قیادت سبی ہرنائی ریلوے سیکشن بحال کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں عوام کی رائے۔تفصیلات کے مطابق جنوری 2006کو نامعلوم افراد نے سبی ہرنائی ریلوے ٹریک پر تاج برطانیہ کے دورحکومت میں بنائے نے جانے والے پانچ5بڑے ریلوے پلوں اور ریلوے ٹریک کو دھماکہ خیز مواد سے نقصان پہنچایا جس کے باعث مذکورہ ٹریک پر ریلوے سروس معطل ہوگئی جس کے باعث مقامی لوگوں کو ریل کا سستے سفر کی سہولت کی فراہمی کا سلسلہ بھی بند ہوگیا16سال تک مذکورہ ٹریک پر ہر قسم کی سروس معطل ہوجانے سے ریلوے کو ماہانہ بنیادوں پر لاکھوں کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے وفاق میں مسلم لیگ ن کی حکومت اوربلوچستان میں بلوچستان عوامی پارٹی کی حکومت کے آ جانے سے جہاں بلوچستان کے کئی سلگتے مسائل حل ہورہے ہے وہاں وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو، مسلم لیگ ن کے صوبائی صدر شیخ جعفر خان مندوخیل صوبائی جنرل سیکرٹری سید جمال شاہ کاکڑ کی کوششوں کاوشوں کے باعث وزیر اعظم میاں شہباز شریف کی ہدایات پر وفاقی وزیر ریلوے سعد رفیق کے احکامات کی روشنی میں سبی ہرنائی سیکشن کے پانچ بڑے پل کو این ایل سی کے مایاناز انجییئرز کی محنت لگن سے بنانے کے ساتھ ساتھ ریلوے اسٹیشنوں کی تعمیر بھی یقینی بنائی گئی ریلوے ٹریک کی مرمت کا کام تیزی کے ساتھ ڈویژنل سپریٹنڈنٹ کوئٹہ ڈویژن کی نگرانی میں جاری ہے یکم آگست 23کو سبی ہرنائی ریلوے سیکشن بحال کرکے ترین سروس شروع کردی جائے گی واضح ہے 1883میں برطانوی دور میں ان تمام وسائل کو بروئے کار لانے کیلئے ہرنائی ودیگر علاقوں کے اونچے اونچے پہاڑوں کو کاٹ کر حیرت انگیرریلوے لائن کا منصوبہ بنایا گیا 1948 میں باقاعدہ سبی ہرنائی،ناکس شاہرگ اور خوست سمیت بوستان اور ژوب تک تین سوکلومیٹر طویل ترین ریلوے لائن کو تاریخی اہمیت کا حامل بنادیا گیا اس منصوبے نے دنیا کے مایہ ناز انجینئر کو حیرت زدہ کرڈالا، ہرنائی وسائل سے مالامال علاقہ ہے جس کی تما م پہاڑی معدنیات کی دولت سے مالامال ہیں ہرنائی ناکس شاہرگ خوست زردآلو تک ہزاروں فٹ اونچا اور 65کلومیٹر طویل ترین سورغراور تورغر کے پہاڑی سلسلے کوئلے کے ذخائز سے بھرے پڑے ہیں ہرنائی سے بذریعہ ٹرین ہزاروں ٹن کوئلہ اندروں ملک براستہ سبی سپلائی ہونے کی وجہ سے ریلوے سروس سے محکمہ ریلوے کو روزانہ 50کروڑسے زائد فائدہ ہوتا تھا، ، 2006سے قبل سبی ہرنائی ریلوے سیکشن میں ٹرین سروس میں ماہانہ دوہزار سے 2500 تک مال گاڑی کی بوگیاں لگائی جاتی تھیں جن میں کوئلہ، پھل، سبزیاں ودیگر اشیاء لوڈ ہوتی تھیں جن کی آمدنی مالانہ لاکھوں اور سالانہ اربوں روپے ہوتی تھیں جس سے محکمہ ریلوے کا فائدہ ہوتا تھا، سبی بھاگ، شاہرگ، ناڑی، ناکس، بابر کیچ، سپن تنگی، کھوسٹ اس سیکشن کے اہم علاقہ ہیں ان علاقوں میں رہائش پذیر افراد اور زمینداروں کو سبی ہرنائی ریلوے سروس بند ہوجانے کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے، سبی ہرنائی ریلوے سروس کی بحالی کیلئے سابق صوبائی حکومت سمیت نگران حکومت نے کافی کوشش کی لیکن وہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے میں کانامی کا شکا ر رہے پی ٹی آئی کی حکومت کے خاتمہ کے بعد وفاق میں مسلم لیگ ن کی حکومت آنے کی وجہ سے بلوچستان خاص کر سبی ہرنائی ودیگر علاقوں کی عوام کو امید ہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو، مسلم لیگ ن کے مرکزی صدر وزیراعظم پاکستان میاں محمدشہبازشریف کی قائدانہ صلاحیتوں سے سبی ہرنائی ریلوے سیکشن کی بحالی کا قومی امکان نظر آرہا ہے بلوچستان بھر کی عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ سبی ہرنائی ریلوے سروس کی بحالی کے ساتھ ساتھ بلوچستان سے چلنے والی بند مسافر ٹرینوں کی بحالی کیلئے بھی اقدامات کرنے موجودہ وقت کی اہم ضرورت ہے واضح رہے کہ بلوچستان سے خیر پور نواب شاہ حیددآباد کوٹری کراچی سہون شریف لاڑکانہ دادو، کشمور، ڈیرہ غازی خان فصیل آباد کیلئے مسافر ٹرین کے نہ ہونے سے ان علاقوں کی عوام کو بھی مشکلات کا سامناکرنا پڑتا ہے عوامی سماجی سیاسی حلقوں نے ڈی ایس کوئٹہ سے مطالبہ کیا ہے کہ تاجر برادری کو سہولیات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ ان علاقوں کی عوام کو بھی سفر کی سہولیت فراہم کرنے کیلئے اقداما ت کئے جائیں۔


