ژوب میں 12 روز سے عدالتیں بند ہیں، بلوچستان میں بے امنی کا نوٹس لیا جائے، پاکستان بار کونسل

کوئٹہ (این این آئی) پاکستان بار کونسل کے ممبر منیر احمد کاکڑ ایڈووکیٹ نے ہرنائی میں ٹرک جلانے ،ژوب میں پولیس چیک پوسٹ پر حملے اور لورالائی میں پیش آنے والے واقعات پر تشویش کااظہار کرتے ہوئے ان واقعات کی سخت الفاظ میں مذمت کی انہوں نے کہاکہ ان واقعات کی آڑ میں ژوب عدالت کی سیکورٹی کے نام پر بندش اور اس سلسلے میں بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور دیگر ججز کی خاموشی سوالیہ نشان ہے بلکہ یہ عدالتی نظام کوناکام کرنے کی سازش ہے اور کوئی پوچھنے والا بھی نہیں ہے کہ گزشتہ دس دنوں سے عدالتیں بند ہیں کسی کو کوئی فرق ہی نہیں پڑتا سیکورٹی ادارے کہاں ہے ؟ کروڑوں کے فنڈز رکھنے کے باوجود سیکورٹی کا یہ عالم کیوں ہے؟انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ کی جانب سے آبادی پر سیمینارز منعقد کئے جارہے ہیں یہاں ہر کوئی اپنا کام چھوڑ کر دوسروں کے کام کرتے آرہے ہیں اگر آج بلوچستان ہائی کورٹ بند ہوجائیں لوگوں کے بنیادی انسانی حقوق کاتحفظ کیسے یقینی بنایاجاسکتاہے ؟دوسری جانب سپریم کورٹ کا ایک بینچ کوئٹہ آیا ہوا ہے،اس بینچ میں کسی اور جگہ سے نہیں بلکہ بلوچستان کے ضلع ژوب سے تعلق رکھنے والے جسٹس جمال مندوخیل شامل ہیں،جنکے ضلع میں 12 دنوں سے عدالتیں بند ہیںاب انسان کس سے گلہ کرے؟ عدالتی نظام چلتا رہنا جمہوری نظام کے اہم اجزا میں شام ہے ا گر ایسے واقعات کے بعد بجائے زمہ داران کو تختہ دار تک پہنچانے کے عدالتیں ہی بند کر دی جائیں گی تو آج یہ ژوب میں ہے کل کوئٹہ اور اسلام آباد میں ہوگا،یہ بلکل غیر جمہوری قدم ہے،چیف جسٹس کو ہر صورت بلوچستان کے ہر کونے میں عدالتی نظام کو چلتے رہنے کو یقینی بنانا ہوگا بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ جوڈیشری کاکام ہے اگر وہ بھی اپنا کام نہ کرسکے توپھر لوگ کہاں جائینگے ؟ اس طرح تو نظام انارکی کی طرف جائے گاہر کوئی اپنی گلی میں کھڑے ہوکر بندوق کی نوق پر اپنا نظام بنائے گا انہوں نے کہاکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ جوڈیشل سسٹم کو مقتدرہ کی ایماءپر ناکام نہ بنایاجائے اور نہ ہی یوں خاموش رہ کر تماشا دیکھاجائے اگر اسی طرح خاموشی اختیار کی گئی تو یہ آئین پاکستان کی ناکامی ہے،اور جس ملک میں آئین نہیں رہتا وہاں پھر افراتفری شروع ہوجاتی ہے جو معاشرے اور انسانوں کیلئے بگاڑ کا باعث بنتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں