زراعت میں اصلاحات لائے بغیر آئی ایم ایف کا ٹیکس کا مطالبہ بے سود ثابت ہوگا، پاکستان بزنس فورم

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)صدر پاکستان بزنس فورم لاہور و ڈائریکٹر گارڈ گروپ محمد مومن علی ملک نے مطالبہ کیا کہ زراعت میں اصلاحات لائے بغیر آئی ایم ایف کا ٹیکس کا مطالبہ بے سود ثابت ہوگا، زرعی شعبے کی بحالی کے لیے وفاقی حکومت کو واپس دیا جائے ۔ میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوںنے کہا کہ اگر اعداد و شمار کو عملی طور پر دیکھا جائے تو 18ویں ترمیم میں زراعت کو صوبوں کے حوالے کرنے کے بعد زراعت میں بہتری دیکھنے میں نہیں آئی کیونکہ صوبے زرعی امداد کے لیے ہمیشہ وفاقی حکومت کی طرف دیکھ رہے ہوتے ہیں تو انہوں نے سوال کیا کہ دو مالکوں کے ساتھ زراعت کا شعبہ کیسے پروان چڑھ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبوں میں زراعت آج بھی زرعی ایکسٹینشن کے طور پر کام کررہی ہے یہاں تک کہ جب کہ پالیسی سازی اسلام آباد میں ریگولیٹری اداروں کا ڈومین بنی ہوئی ہے۔ تاہم اس شعبے کو عالمی سطح پر مسابقتی بنانے کے لیے کسانوں کے لئے سازگار ماحول ضروری ہے اور اس مقصد کے لئے اس شعبے کو وفاقی حکومت کو واپس دینے کی ضرورت ہے۔ انہوںنے کہا کہ زراعت میں اصلاحات لائے بغیر آئی ایم ایف کا ٹیکس کا مطالبہ بے سود ثابت ہوگا جبکہ زرعی شعبہ جی ڈی پی میں 5 فیصد کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ پارلیمنٹ اس سلسے میں فوری قانون سازی کرے۔ دوسری طرف پاکستان بزنس فورم نے سیاسی پارٹیاں سے عام انتخابات سے قبل اپنا معاشی منشور عوام اور بزنس کمیونٹی کے سامنے رکھنے کا مطالبہ بھی کر دیا، چارٹر آف اکانومی ہی قومی سلامتی کو مضبوط کر سکتا ہے اور میں مشکور ہوں کہ پیپلز پارٹی نے سب سے پہلے چارٹر آف اکانومی پر دستخط کرنے کا عندیہ دے دیا ہے کیونکہ اب معاشی پالیسیز کا تسلسل اب ناگزیر ہوچکا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں