سیاسی استحکام کیلئے آئینی مدت کے اندر صاف شفاف انتخابات ناگزیر ہیں،جماعت اسلامی

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)نائب امیر جماعتِ اسلامی، سابق پارلیمانی لیڈر لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ سیاست میں تلخیوں کا خوفناک انجام سب نے دیکھ لیا،حکمت، تدبر، برداشت اور جمہوری رویے ہی سماج میں اطمینان اور استحکام کے اسباب پیدا کرتے ہیں ، سیاسی استحکام کیلئے آئینی مدت کے اندر صاف شفاف انتخابات ناگزیر ہیں۔ لاہور، اسلام آباد اور راولپنڈی میں سیاسی انتخابی مشاورتی اجلاس اور ملتان (جنوبی پنجاب)کے امیر راؤ محمد ظفر سے ملاقات میں کہا کہ سیاسی استحکام کیلئے آئینی مدت کے اندر صاف شفاف انتخابات ناگزیر ہیں۔ قومی اور دیگر اسمبلیوں کی تحلیل کے بعد انتخابی التوا کے لئے پنجاب اور کے پی کے کی طرح حربے استعمال کئے گئے تو بڑا سیاسی بحران جنم لے گا اور پورے ملک میں جمہوریت کے تحفظ کی جدوجہد شروع ہوگی۔ حالات کی سنگینی، اقتصادی بحرانوں کا علاج قومی وحدت اور اندرونی استحکام ہے۔ سیاست میں تلخیوں کا خوفناک انجام سب نے دیکھ لیا۔ حکمت، تدبر، برداشت اور جمہوری رویے ہی سماج میں اطمینان اور استحکام کے اسباب پیدا کرتے ہیں۔لیاقت بلوچ نے کہا کہ جنوبی، شمالی، وسطی پنجاب، خیبرپختونخوا میں جماعتِ اسلامی کے انتخابات 2023 کنونشنز بہت کامیاب رہے۔ قومی، صوبائی اسمبلی امیدواران میدانِ انتخاب میں چل پڑے ہیں۔ 22 جولائی کوئٹہ میں امن جرگہ، 23 جولائی کوئٹہ میں بلوچستان انتخابات 2023 کنونشن منعقد ہوگا۔ ماہِ جولائی میں ہی سندھ اپر اور کراچی کے انتخابی کنونشنز منعقد ہوں گے۔ ملک کو جماعتِ اسلامی ہی بحرانوں سے نکال سکتی ہے۔ جماعتِ اسلامی ہی سِول-ملٹری تعلقات میں بااعتماد ماحول پید اکرے گی۔ جماعتِ اسلامی خود بھی آئینی جمہوری برداشت اور سیاسی اخلاقیات پر سختی سے کاربند ہے اور ریاستی نظام چلانے کے لیے بھی یہ ہی اسلوب کارآمد ہوگا۔ انہوںنے کہا کہ ملک کے تمام سٹیک ہولڈرز آئینی دائروں کے پابند ہوجائیں، قومی ترجیحات پر کم از کم ایجنڈا پر اکٹھے ہوجائیں اور قومی سلامتی، خودمختاری، ملکی عزت و وقار، ساکھ کی بحالی کے لئے ایک ٹریک پر آگے بڑھیں ،معاشی بحران میں چین، سعودی عرب، عرب امارات، ترکی نے ساتھ دیا ہے، اب یہ اعتماد نہ توڑا جائے۔ بھکاری بننے، کشکول پھیلانے کے بجائے خودانحصاری ہی باوقار راستہ ہے۔لیاقت بلوچ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان-ایران تعلقات میں استحکام بھی ناگزیر ہے لیکن افغانستان کے ساتھ تعلقات کی بحالی، اعتماد کے رشتہ کی مضبوطہ ناگزیر ہے۔ بیانات کا تلخ تبادلہ مزید تلخی لانے کا سبب گا، امریکہ، بھارت اپنے آلہ کاروں سے اِن حالات کا فائدہ اٹھائیں گے۔ حکومتی سطح اور سفارتی محاذ بھی کردار ادا کرے۔ قومی جرگہ تشکیل دے کر افغان قیادت، طالبان حکومت سے بات چیت کی جائے۔ افغانستان میں استحکام اور تعلقات کا بہترین ہونا پاکستان کا استحکام اور دشمنوں کی ناکامی ہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں