بلوچوں کو اغوا، لاپتہ اور قتل کرنیوالوں کا احتساب ضروری ہے، وی بی ایم پی احتجاج میں شریک ہوں گے، بی ایس او پچار
کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (پجار) کالج آف ٹیکنالوجی سریاب یونٹ کا اسٹڈی سرکل زیر صدارت مرکزی سینئر وائس چیئرمین منعقد ہوا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سینئر وائس چیئرمین بابل ملک بلوچ نے کہا کہ ہمارے بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن قومی حوالے سے اپنے تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لاتے ہوئے طلباءکی فکری و نظریاتی بنیادوں پر تربیت کررہی ہیں۔ تعلیمی اداروں میں اپنے تمام ممبران کو بتانا چاہتے ہیں کہ اب وہ وقت آچکا ہے کہ ہم چاپلوسوں کی سیاست کو ختم کرکے تعلیمی اداروں سے باہر کردےیں، کسی فرد کو انفرادی یا ریاستی سطح پر کسی بھی صورت اس بات کی اجازت نہیں دیں گے کہ وہ بلوچ یا بلوچستان کیخلاف کام کرے۔ اس سے قبل بھی جماعتی مخبروں اور ریاستی آلہ کاروں نے بلوچستان یونیورسٹی میں قوم پرستی کی سیاست کو داغ دار بنانے کی کوشش کی لیکن ان کو منہ کی کھانا پڑی۔ سرکل سے خطاب کرتے ہوئے سینٹرل کمیٹی کے ممبر منصور ایم جے بلوچ، اکرم بلوچ، واسع بلوچ، آغا شعیب شاہ، باسط بلوچ و دیگر نے کہا کہ بلوچستان کے تعلیمی اداروں میں سیاست پر پابندی اور بلوچ طلباءکو تعلیم سے دور رکھنے کے تمام سازشوں کو سمجھ رہے ہیں اور جلد بلوچستان کے تمام اعلیٰ تعلیمی اداروں کے حوالے سے ایک پلان دیں گے، جس میں سیاست پر پابندی اور ڈراپ آﺅٹ، طلباءکے ہراسگی اور انتظامی سطح پر طلباءکی مخبری جیسے اہم موضوعات پر مشتمل پروگرام ہوگا۔ تمام پروفیشنل ڈگریوں کو ڈسٹرکٹ کوٹہ کی بنیاد پر تقسیم کیا جائے۔ اس حوالے سے اپنے اتحادی اور سسٹر آرگنائزیشن کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرکے آگے کا لائحہ عمل کا اعلان کرینگے۔ انہوں نے کہا کے حالیہ دنوں میں بلوچ طلباءکو پھر سے لاپتہ کرنے کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوا ہے، جس میں روز بروز تیزی آرہی ہے، جس کے لیے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے زیر اہتمام کل 3 بجے ایک احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا، جس کی بھرپور حمایت اور شرکت کا اعلان کرتے ہیں، ایسے تمام افراد کو قانون کے شکنجے میں لانا چاہیے جو لوگوں کو اغواءکرتے ہیں، ٹارچر کرتے ہیں ان تمام افراد کا احتساب ہونا ضروری ہے، جن کو معصوم افراد کو قتل کرنے اور لاپتہ کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔


