نواز شریف کا چوتھی بار وزیراعظم بننا تو دور، وہ واپس بھی نہیں آئیں گے، لطیف کھوسہ
اسلام آباد (آن لائن) ماہر قانون سردار لطیف کھوسہ نے کہا ہے کہ اب نوازشریف کاراستہ بند ہوگیا، چوتھی وزیراعظم بننا تو دور وہ واپس بھی نہیں آئیں گے۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کی پارلیمانی تاریخ کے یہ بدترین16ماہ تھے، پاکستان کے عوام پرجوظلم وجبرکیاگیااس کی مثال نہیں ملتی۔لطیف کھوسہ کا کہنا تھا سپریم کورٹ ریویو اینڈ ججمنٹ ایکٹ بدنیتی طورپرقانون سازی تھی، ایکٹ کو ذاتی مفاد کیلئے بنایا گیا تھا، جو آئین سے متصادم تھا، سپریم کورٹ نے آئین کے مطابق اپنے روابط بنا رکھے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے اپنے رولز ہیں جنہیں تبدیل نہیں کیا جاسکتا، سپریم کورٹ کے بنائے گئے رولز کو آئینی تحفظ حاصل ہے، نظرثانی اوراپیل میں فرق ہوتا ہے اور نظرثانی کا دائرہ اختیارمحدود ہوتا ہے اور فیصلہ سنانے والے جج ہی دیکھتے ہیں۔لطیف کھوسہ نے مزید کہا کہ افتخار چوہدری کے دورمیں چیف جسٹس کااعلیٰ عدلیہ پرکنٹرول تھا، افتخار چوہدری کے بعد چیف جسٹس کااعلیٰ عدلیہ پرکنٹرول کم ہوتا گیا اور اب تونوبت یہاں تک آگئی ہےکہ ججز ایک دوسرے کیساتھ بیٹھنے کو تیار نہیں۔ انہوں نے کہا نوازشریف اورجہانگیرترین کی تاحیات نااہلی برقرار رہے گی، دونوں کی سپریم کورٹ سے اپیل بھی خارج ہوچکی ہے، دونوں کو62ون ایف کے تحت نااہل قراردیاگیاتھا۔ انھوں نے مزید بتایا کہ بنیادی طور پر ریویو اینڈ ججمنٹ ایکٹ ان دونوں کو نواز نے کیلئے لایا گیا تھا ، نظرثانی پر نظرثانی کیلئے ایکٹ لایا گیا تھا، جسے اپیل کادرجہ قراردینے کی کوشش کی گئی۔لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ آرٹیکل185سے متصادم قانون کولایاگیاتھاجسے سپریم کورٹ نے مستردکردیا، ریویواینڈججمنٹ ایکٹ لانے سے پہلے ائینی ترمیم کی ضرورت تھی، اب نوازشریف کاراستہ بند ہوگیا وزیراعظم بننا تو دور وہ واپس بھی نہیں آئیں گے۔


