ترقی پذیر ممالک امریکا کے غلبے سے تنگ، ڈالر کی بالادستی ختم کرنے پر زور

ابوجا(این این آئی )نائجیریا کے دارالحکومت ابوجا میں کنگزلے اوڈاف کی ملبوسات کی دکان پر کاروبار ختم ہو گیا ہے جس کی وجہ سے انھیں تین ملازمین کو مجبورا فارغ خطی دینا پڑی ۔میڈیارپورٹس کے مطابق ان کی پریشانیوں کا ایک بڑا سبب نائجیریا کی کرنسی نیرا کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قدر میں اضافہ ہے۔اس نے ملبوسات اور دیگرغیر ملکی اشیا کی قیمتوں کو مقامی صارفین کی پہنچ سے باہر کردیا ہے۔ درآمد شدہ کپڑوں کے ایک بیگ کی قیمت دو سال پہلے کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہوچکی ہے۔ ان دنوں قیمت قریبا 350،000 نیرا یا 450 ڈالر کے آس پاس چل ہے۔اوڈاف کا کہنا تھا کہ اب کوئی فروخت نہیں کیونکہ لوگوں کو کپڑے خریدنے کے بارے میں سوچنے سے پہلے کھانا پڑتا ہے۔ترقی پذیر دنیا میں، بہت سے ممالک عالمی مالیاتی نظام پر امریکا کے غلبے سے تنگ آ چکے ہیں۔خاص طور پر ڈالر کی طاقت۔وہ اگلے ہفتے اپنی شکایات کا اظہار کریں گے جب برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقا کا برکس بلاک جوہانسبرگ میں اجلاس منعقد کرے گا۔ اس میں دیگر ابھرتی ہوئی مارکیٹوں کے ممالک بھی شریک ہوں گے۔لیکن کنگ ڈالر کو گرفت میں لانا اصل میں عالمی کرنسی کو ختم کرنے سے کہیں زیادہ آسان ہے۔ڈالر اب تک عالمی کاروبار میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی کرنسی ہے اور یہ ماضی میں بھی چیلنجوں نبردآزما ہوچکا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں