میر دوران کھوسہ پر حملہ تمام قوم پرست اور سیاسی کارکنان پر حملہ ہے، نیشنل پارٹی
گوادر (آن لائن) میردوران خان کھوسہ پر قاتلانہ حملے کے خلاف نیشنل پارٹی کی جانب سے پسنی پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ،غیرقانونی ٹرالنگ سے ماہی گیر پریشان ہیں،نیشنل پارٹی جمہوری سیاست چاہتی ہے نیشنل پارٹی مقررین کا مظاہرہ سے خطابتفصیلات کے مطابق نیشنل پارٹی پسنی نے پارٹی کے سینئر رہنما میردوران خان کھوسہ پر قاتلانہ حملے کے خلاف پسنی پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔احتجاجی مظاہرین سے نیشنل پارٹی پسنی کے جنرل سیکرٹریی سلام اللہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہمارا آج کا یہ احتجاج پارٹی کے صحبت پور کے سینئر رہنما میردوران خان کھوسہ پر قاتلانہ حملہ کے خلاف ہے۔انہوں نے کہا کہ قاتلانہ حملے میں میردوران خان زخمی ہوا ہے اور ابھی تک زیر علاج ہے میر دوران خان کا قصور یہ تھا کہ انہوں نے صحبت پور میں نیشنل پارٹی کے لیے جددجہد کیا اور وہاں کے عوام کو شعور اور آگہی دیا اور سرداری نظام میں پسے لوگوں کے حقوق کے لیے بات کی اسی وجہ سے انہیں ٹارگٹ کیا گیا اور ہم یہی سمجھتے ہیں کہ میر دوران کھوسہ کو جمہوری سیاسی جدوجہد کی سزا دی گئی۔انہوں نے کہا مخالفین کی سوچ یہی ہے کہ وہ اسطرح کے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرکے نیشنل پارٹی کے کارکنوں کو جمہوری سیاست سے دور کردینگے یہ انکی غلط فہمی ہے اسی طرح گزشتہ دنوں تربت میں پارٹی کے رہنماں حاجی فداحسین دشتی اور مشکور انور کے گھروں پر بھی حملے کیے گئے یہ تمام حربے نیشنل پارٹی کو دیوار سے لگانے کے لیے کیے جارہے ہیں لیکن نیشنل پارٹی کے کارکنان سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑے ہیں۔احتجاجی مظاہرہ سے منظور مقبول نے اپنے خطاب میں کہا نیشنل پارٹی ایک جہدمسلسل کا نام ہے اور اسی جہد مسلسل کی وجہ سے نیشنل پارٹی آج ایک قومی پارٹی بن چکا ہے پارٹی کے ورکروں کی بے تحاشا قربانیوں کی وجہ سے آج پورے ملک میں پارٹی موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم اسٹبلشمنٹ کو واضح طور پر یہ کہنا چاہتے ہیں کہ آپکے اس طرح کی بچکانہ حرکتوں سے پارٹی مذید مضبوط اور منظم ہورہی ہے اور پارٹی کے کارکنان جرات مند ہوچکے ہیں۔ احتجاج سے نیشنل پارٹی کے نائب صدر خدا بخش سعید نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میر دوران کھوسہ پر حملہ تمام قوم پرست اور سیاسی کارکنان پر حملہ ہے۔انہوں نے کہا یہ ریاست کی پہلی زمہ داری ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو تحفظ فراہم کرئے اپنے عوام اور انکی معاش کو تحفظ دے لیکن بدقسمتی سے کہ آج ریاست ہر معاملے میں خاموش ہے۔ اس ریاست میں نہ صحافی محفوظ ہیں،نہ سیاسی کارکن اور نہ ہی وکلا محفوظ ہیں یہاں اہل دانش کو ٹارگٹ کیا جارہا ہے یقینا یہ ریاست اور ملک کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔انہوں نے ریاست اور اسکے مقتدرہ سے اپیل کرتے ہوئے ہوئے کہا کہ وہ دہشت گرد جو اس ملک کو بد امنی کی جانب لے جانا چاہتے ہیں ملک کو ایک غیر محفوظ ملک بنانا چاہتے ہیں انہیں فوری طور پر گرفتار کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے تمام سیاسی کارکنان اور لیڈروں کو تحفظ دیا جائے اور جمہوری سیاست کے زریعے مسائل کو حل کیا جائے جبراور تشدد یا کہ اسلحہ سے مسائل حل نہیں ہوتے۔انہوں نے کہا کہ نیشنل پارٹی کا منشور بھی یہی ہے کہ جمہوری انداز میں اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کرینگے اور ہرمسلئے کا حل جمہوریت میں ہے۔انہوں نے کہا کہ پسنی کے سمندر میں غیرقانونی ٹرالنگ زور وشور سے جاری ہے لیکن ادارے خاموش ہیں۔احتجاجی مظاہرین سے نیشنل پارٹی کے صوبائی وحدت کے ورکنگ باڑی ممبر محسن بھٹو نے اپنے خطاب میں کہا کہ کچھ قوتیں شاید یہ سوچ کر نیشنل پارٹی کے خلاف سینہ بہ سپر ہیں کہ وہ اسطرح کی حرکتوں سے نیشنل پارٹی کے ورکروں کو ڈرائینگے لیکن یہ انکی بھول ہے یہ انکی غلط فہمی ہے کیونکہ نیشنل پارٹی جمہوری سیاست کرتا ہے اور نیشنل پارٹی یہی چاہتی ہے کہ ملک کے تمام ادارے مضبوط ہوں نیشنل پارٹی کی سوچ اور پالیسی یہاں کے عوام کے لیے ہے اور نیشنل پارٹی ملک میں ایک پرامن ماحول قائم کرنا چاہتی ہے پارلیمنٹ کی بالادستی چاہتی ہے جمہوریت کی بالا دستی چاہتی ہے نیشنل پارٹی نے ہروقت جمہوری اور مثبت سیاست کو پروموٹ کیا۔انہوں نے کہا کہ کچھ قوتیں نیشنل پارٹی کو دیوار سے لگادینا چاہتی ہیں اسی لیے وہ پارٹی کے سینئر رہنماں کو ٹارگٹ کررہے ہیں اگر مخالفین اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے تو نیشنل پارٹی ایک مضبوط قدم اٹھائے گی۔انہوں نے کہا ٹرالر مافیا فشریز افسران کی آشیرباد سے غیرقانونی ٹرالنگ میں مصروف ہیں ٹرالنگ نے ہمارے سمندر کو بانجھ بنادیا ہے۔نیشنل پارٹی پسنی کے صدر عبدالحکیم بلوچ نے اپنے خطاب میں میردوران خان کھوسہ پر قاتلانہ حملے کی مذمت کی اور کہا کہ میر دوران خان پر حملہ اس بات کی گواہی ہے کہ اس نے صحبت پور میں پارٹی کو انتہائی مضبوط بنادیا ہے جس سے مخالفین کی نیندیں حرام ہوچکی ہیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی گزشتہ حکومت جو پانچ سال تک اقتدار میں تھی انہوں نے پسنی کے لیے کوئی بھی کام نہیں کیا پسنی میں بجلی پانی اور ٹرالنگ کا مسلہ ابھی بھی موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ پسنی کے مستانی ریت نے لوگوں کو بے گھر کردیا ہے انہیں دوسری جگہ زمین مہیا نہیں کی جارہی ہے زرین ہاسنگ اسکیم کو بحال نہیں کیا گیا ہے یہ پسنی کے عوام کے ساتھ ظلم ہے۔


