سردار عطااللہ مینگل کے نظریات صدیوں تک بلوچ قوم کی رہنمائی کریں گے، میر جاوید مینگل

لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) بلوچ قوم پرست رہنما میر جاوید مینگل نے اپنے والد عظیم بلوچ قوم پرست رہنماءسردار عطاءاللہ خان مینگل کی دوسری برسی کے موقع پر اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ 2 ستمبر 2021ءکو ایک عہد کا خاتمہ ہوا تھا اور اس دن والد صاحب جسمانی طور پر ہم سے ہمیشہ کے لئے جدا ہوگئے، وہ جسمانی طور پر ہم سے ضرور جدا ہوگئے ہیں لیکن ان کے نظریات، تعلیمات اور سوچ بلوچ قوم کے ساتھ ہیں اور صدیوں تک ہماری رہنمائی کرتی رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم ان کے جائیداد کے وارث تو ضرور ہوسکتے ہیں لیکن ان کے نظریے کے وارث اس وقت تک ہم نہیں بن سکتے جب تک ہم ان کے نظریہ پر عمل نہیں کرینگے اور ان کی سیاسی تعلیمات کو نہیں اپنائیں گئے۔ میر جاوید مینگل نے کہا کہ بلوچ قوم و بلوچ نوجوان سردار عطاءاللہ مینگل کی سیاسی زندگی، نظریہ، تعلیمات اور کردار کا بغور مطالعہ کریں اور ا±ن کے انٹرویوز اور فرمودات کو پڑھیں کہ ان کے قومی و سیاسی ترجیحات کیا تھیں۔ والد صاحب غلامی کی کسی بھی صورت کو پسند نہیں کرتے تھے انہوں نے اپنے ایک انٹرویو میں اس بات کا کھل کر اظہار بھی کیا تھا کہ اگر کوئی مجھے اپنا غلام بنانا چاہے گا تو میں اس کے منہ پر دس دفعہ تھونکوں گا میں مرنا پسند کرونگا لیکن کسی کی غلامی پسند نہیں کرونگا، ان کی زندگی اور سیاسی سفر مصلحت پسندی سے پاک و صاف تھی۔ میر جاوید مینگل نے مزید کہا کہ سردار عطاءاللہ مینگل کو خراج عقیدت پیش کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہم ان کے نقش قدم پر چلیں ان کی تعلیمات اور سوچ و کردار کو اپنائیں۔ میر جاوید مینگل نے کہا کہ بعض سیاستدان اکثر کہتے ہے کہ سردار مینگل نے پاکستان میں جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لئے جدوجہد کی ہے جو صریحاً مبالغہ آرائی اور تاریخ کو جھٹلانے کے سواءاور کچھ نہیں کیونکہ 1973ءکا آئین متفقہ آئین نہیں، میر غوث بخش بزنجو کے علاوہ بلوچستان کے دیگر نمائندوں نے آئین پر دستخط کرنے سے انکار کیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ 3 ستمبر کو بلوچ قوم نے سردار عطاءاللہ مینگل کے صرف جسد خاکی کو دفن کیا تھا، مگر ان کے نظریات اور خیالات کو نہیں ہمیں ان کے نظریات اور خیالات کو اپنانا چاہیے۔ کوئی بھی فرد، پارٹی یا تنظیم یہ دعویٰ کرتی ہے کہ وہ سردار عطاءاللہ مینگل کی سیاست کے وارث ہیں تو ان سے میں یہ گزارش کرونگا کہ وہ سردار عطاءاللہ مینگل کی سیاسی وارث ہونے کے دعویٰ کرنے سے پہلے ایک بار بغور ان کی سیاست اور نظریات پر نظر دوڑائیں اور اپنی سیاسی موقف اور پالیسیوں پر بھی نظر ڈالیں میں یہ بات یقین سے کہتا ہوں کہ انہیں اس درمیان بہت بڑی خلاءنظر آئے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ جس پارٹی کو انہوں نے تشکیل دی تھی آج مخلص ورکروں کو چھوڑیں بلکہ ریاست کے پیدا کردہ لوگ اور پارٹیاں بھی اس پارٹی کے پالیسیوں اور فیصلوں پر تنقید کرتے ہیں تو یہ عمل سردار عطاءاللہ مینگل کے نام پر سیاست کرنے والوں کے لئے لمحہ فکر ہونا چاہیے اور انہیں ایک بار پھر اپنے فیصلوں اور پالیسیوں کا جائزہ لینا چاہیے۔ میر جاوید مینگل نے کہا کہ والد ہجوم کے بجائے باکردار اور باعمل سیاسی کارکنوں کو اپنا اثاثہ سمجھتے تھے اور وہ اکثر یہ بات کہتے تھے کہ بے مقصد ہجوم کے بجائے اگر آپ کے ساتھ دس مخلص ساتھی ہوں وہ بے مقصد ہجوم سے کئی درجہ بہتر ہیں۔ میر جاوید مینگل نے مزید کہا کہ 70 کے دہائی میں جب نیپ نے بلوچستان میں اکثریتی جماعت بن کر ابھری تو جب حکومت سازی کا معرکہ آیا تو میر غوث بخش بزنجو نے گورنر شپ کے لئے اپنے آپ کو منتخب کیا اور وزارت اعلیٰ کے لئے نواب خیر بخش مری اور سردار عطاءاللہ مینگل کو کو پارٹی نے کہا کہ آپ دونوں خود فیصلہ کریں کہ کون وزیراعلیٰ بنے گا، تو دونوں نے وزارت اعلیٰ لینے سے معذرت کرلی، والد نے نواب صاحب سے کہا کہ وہ یہ عہدہ سنبھالیں جبکہ نواب صاحب کا اصرار تھا کہ والد وزیراعلیٰ بن جائے اور کئی دنوں تک یہ فیصلہ نہیں ہو پایا تو میر غوث بخش بزنجو نے ازراہ مذاق انہیں کہا کہ آپ لوگ ایسے وزارتِ اعلیٰ کے عہدے سے ڈر رہے ہیں کہ آپ لوگوں کو وزارت اعلیٰ کی کرسی پر نہیں بلکہ پھانسی دلوا رہے ہیں اور پھر نواب صاحب کے بڑی اصرار پر والد راضی ہوئے لیکن آج سیاست میں مخلصی اور خود داری کے بجائے لوگ عہدوں اور مراعات کو ترجیح دیتے ہیں اور سیاست کو تجارت سمجھ کر اس میں شامل ہوتے ہیں۔ والد صاحب کے 9 ماہ کی حکومت کو لوگ آج بھی یاد کرتے ہیں اور اس دور حکومت کے نشانیاں آج بھی بلوچستان میں یونیورسٹیوں کی صورت میں وجود رکھتے ہیں اور اس کے علاوہ نیپ حکومت کے اقدامات کی وجہ سے تعلیم یافتہ بلوچ اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوئے۔ میر جاوید مینگل نے مزید کہا کہ جو نوجوان سردار عطاءاللہ مینگل کے نقش قدم پر چلنا چاہتے ہیں تو وہ ان کے اس پیغام پر ضرور غور و فکر کریں کہ انہوں نے نوجوانوں کو مخاطب ہوکر کہا تھا کہ خدا کے لئے اور اس سرزمین کی خاک کیلئے اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں جو آپ پر بحثیت نئی نسل کے عائد ہوتی ہے آپ مت بھولے کہ آج آپ تاریخ کے سامنے جواب دہ ہیں کل جو مورخ آپ کی تاریخ لکھے گا وہ آپ سے پوچھ کہ نہیں لکھے گا بلکہ آپ کے کردار کو دیکھ کر لکھے گا اپنے آپ کو ایک مقام اس تاریخ میں دیں جس پر آپ کے آنے والی نسل فخر کرسکے نہ کہ وہ آپ کے کردار کو دیکھ کر شرمندہ ہوں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں