بلوچستان میں کیسکو کے 203 افسران بجلی چوری میں ملوث، 29 کا تبادلہ، تحقیقات شروع

کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچستان میں کیسکو کے 203 افسران کی ملی بھگت سے بجلی کی چوری کا انکشاف، محکمانہ تحقیقات شروع کردی گئیں۔ منفی ساکھ رکھنے والے 29 افسروں کو ہیڈ کواٹرز سے مختلف علاقوں میں تبدیل کردیا گیا۔ کیسکو حکام کے مطابق بلوچستان میں بجلی کی بڑے پیمانے پر چوری پر وزارت توانائی نے ایکشن لیتے ہوئے کیسکو کے 165 افسروںکیخلاف محکمانہ انکوائری شروع کردی۔ ان میں 24 چیف انجینئرز اور سپرنٹنڈنگ انجینئرز، گریڈ 18 کے 67 ایکسئین اور گریڈ 17 کے 99 ایس ڈی اوز، 13 کمرشل منیجر اور ریونیو افسران شامل ہیں۔ اسی طرح منفی ساکھ رکھنے والے 29 افسران کو جو ہیڈ کواٹرز میں ڈیسک یا دیگر پوسٹوں پر تعینات تھے انہیں مختلف علاقوں میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ بلوچستان حکومت نے انسداد بجلی چوری مہم میں کیسکو کا ساتھ دینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ بجلی چوری کے تدارک کے لیے صوبائی اور ڈویژنل سطح پر ٹاسک فورس قائم کردی گئی۔ گزشتہ روز صوبائی اور ڈویژنل سطح پر ٹاسک فورس کے قیام سے متعلق نوٹی فکیشن جاری کردیا گیا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق صوبائی ٹاسک فورس کے سربراہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ جبکہ اس کے سات ممبرز ہونگے۔ ڈویژنل ٹاسک فورس کی سربراہی ڈویژنل کمشنرز کریں گے، ریجن کے ڈی آئی جیز، ڈپٹی کمشنرز، ایس ایس پیز، کیسکو کے ڈویژن اور ضلعی سپرنٹنڈنٹ انجینئرز ممبر ہوں گے، دونوں ٹاسک فورس انسداد بجلی چوری مہم کی نگرانی کریں گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں